Science And Technology News

سائنس ٹیکنالوجی

September 04 2018 swat-post-calendar-there-are-at-least-20-percent-of-the-genes-in-the-human-genome-nausea-and-nymph,-new-research

انسانی جینوم میں کم از کم 20 فیصد جین ’ناکارہ‘ اور ’نکمے‘ ہیں، نئی تحقیق

hello

اسپین: 

 

نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک صحت مند انسان کے جینوم (مکمل جینیاتی نقشے) میں پروٹین بنانے والے جین (genes) کی تعداد ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں مزید 20 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اس طرح جین اور پروٹین سے وابستہ معما مزید الجھ گیا ہے۔

یاد دلاتے چلیں کہ انسانی جینوم کی نقشہ کشی کا عالمی منصوبہ ’’ہیومن جینوم پروجیکٹ‘‘ 2003 میں مکمل ہوا؛ جس کے بعد سے اب تک انسانی جینوم پر مزید تحقیق کے نتیجے میں مجموعی طور پر 22,210 جین دریافت ہوچکے ہیں۔ اسی تسلسل میں اب اسپین کے ’’اسپینش نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر‘‘ (سی این آئی او) کی قیادت میں بین الاقوامی جینیاتی اداروں اور ماہرین کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ان میں سے بھی 4 ہزار جین کسی قسم کی کوڈنگ میں حصہ نہیں لیتے اور اسی بنا پر وہ کسی بھی طرح کا پروٹین نہیں بناتے۔ یوں انسانی جینوم میں موجود ہزاروں جین، پروٹین سازی میں غیر سرگرم (نان کوڈنگ) یا نکمے ثابت ہوئے ہیں۔

سی این آئی او سے وابستہ پروفیسر مائیکل ٹریس نے کہا، ’’انسانی جینوم میں شامل کئی جین کا دوبارہ جائزہ لیا گیا جن میں پہلے ہی ایسے 300 جین شامل ہیں جنہیں پروٹین کےلیے کوڈ نہ رکھنے والے (نان کوڈنگ) قرار دیا جاچکا ہے۔‘‘

 

 

لیکن یہ سیکڑوں اور دیگر ممکنہ ہزاروں جین اگر کوئی پروٹین نہیں بنارہے تو جینوم میں ان کی موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟ یہی سوال ماہرین کےلیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ تاہم دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ آج نہیں تو کل ان کا کردار بھی سامنے آجائے گا، صرف مزید محتاط اور مفصل تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ اگرچہ مکمل انسانی جینوم تقریباً 3.25 ارب اساسی جوڑوں (base pairs) پر مشتمل ہے لیکن اس کا بہت بڑا حصہ ’’جین‘‘ (پروٹین بنانے کےلیے احکامات رکھنے والے حصوں) سے خالی ہے۔ کچھ سال پہلے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ پورے انسانی جینوم میں موجود ڈی این اے کا تقریباً صرف 8.2 فیصد حصہ پروٹین سازی کی صلاحیت رکھتا ہے؛ یعنی ’’جین‘‘ پر مشتمل ہے۔ باقی کا اکثریتی حصہ ’نان کوڈنگ‘ ڈی این اے، جنک ڈی این اے یا سیٹلائٹ ڈی این اے بھی کہلاتا ہے۔ 2017 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسانی جینوم کا 75 فیصد حصہ ’جنک ڈی این اے‘ پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

اس ڈی این اے کے کسی بھی کردار سے اب تک ہم لاعلم ہیں لیکن اس ڈھیر میں مزید 4 ہزار جین شامل ہوجانے سے پورے انسانی جینوم کا غیر فعال حصہ مزید بڑھ گیا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیے کہ نئی تحقیق سے یہ معما حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گیا ہے۔

وہ ایسے کہ اب تک انسانی پروٹین کے مجموعے ’’پروٹیوم‘‘ میں 30,057 پروٹینز شناخت کیے جاچکے ہیں؛ جبکہ یہ تعداد (متوقع طور پر) ایک لاکھ کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔ جینیات میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ایک جین سے ایک پروٹین ہی بنتا ہے؛ اور اگر یہ بات درست ہے تو پھر انسانی جینوم میں ’’جین‘‘ کی تعداد اس قدر کم کیوں ہے؟ امید تو یہ تھی کہ جیسے جیسے ہم انسانی جینوم کا جتنی باریک بینی سے مطالعہ کرتے جائیں گے، ویسے ویسے ہمیں نئے جین بھی ملتے جائیں گے لیکن تازہ تحقیق کے نتیجے میں ’’سرگرم جین‘‘ کی تعداد مزید کم ہونے سے یہ اسرار مزید گہرا ہوگیا ہے۔

مائیکل ٹریس بایوانفارمیٹکس کے ماہر ہیں اور انہوں ںے اپنی تحقیق کے لیے جین کوڈ، ریف سیک اور یونی پروٹ کے بی کے تین بڑے ڈیٹا بیس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ہر جین کا جائزہ لیا۔ ان ڈیٹا بیسز میں کل 22,210 کوڈنگ جین شامل تھے۔ ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ان تینوں ڈیٹابیسز میں 2,764 ایسے جین سامنے آئے جو غیر فعال تھے لیکن انہیں ’’کوڈنگ جین‘‘ شمار کرلیا گیا تھا۔

اگلے مرحلے پر اور بھی احتیاط سے تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ انسانی ڈی این اے میں مزید 1470 نان کوڈنگ جین موجود تھے۔ اس طرح نان کوڈنگ جین کی مجموعی تعداد 4,234 ہوگئی ہے؛ یعنی یہ وہ تعداد ہے جسے غلطی سے پروٹین سازی میں معاون ’’جین‘‘ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا لیکن وہ درحقیقت غیرسرگرم ہے۔

اسپین میں پروٹیومکس کے ایک اور ماہر ڈیوڈ ہووان نے کہا ہے کہ ایک سو سے زائد اعلیٰ سائنسی تحقیقی مقالوں میں ان جین کو کوڈنگ جین کہا گیا ہے اور ماہرین نے پہلے سے انہیں اچھی طرح دیکھ رکھا ہے۔

دوسری جانب اسپینی ماہرین نے کہا ہے کہ اس ضمن میں مزید محتاط تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جینوم میں غلط فہمیوں کو کم کیا جاسکے۔

اس تحقیق کی تفصیلات ’’نیوکلیئک ایسڈز ریسرچ‘‘ نامی مجلے کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔