National News

قومی خبریں

June 13 2018 swat-post-calendar-there-is-a-capacity-to-generate-30000-mw-of-electricity-in-khyber-pakhtunkhwa

خیبرپختونخوا میں 30ہزار میگاواٹ پن بجلی پیداکرنے کی گنجائش موجود ہے

hello

پشاور(ٓئن لائن نیوز)خیبرپختونخواتوانائی کے ذخائر سے مالامال صوبہ ہے جہاںپر30ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیداکرنے کی گنجائش موجود ہے جس سے سستی ترین بجلی پیداکرکے ملک کوموجودہ توانائی کے بحران سے نکالاجاسکتاہے ،ان وسائل کے فروغ سے نہ صرف خیبرپختونخواکی معیشت کواستحکام دیا جاسکتاہے بلکہ بے روزگاری پر کافی حد تک قابوپایاجاسکتاہے۔خیبرپختونخوامیں فاٹاکے انضمام کے بعد مستقبل کے چیلنجزسے نمٹنے کے لئے ہمیں توانائی ایکشن پلان کا ازسرنوجائزہ لیناہوگا۔ محکمہ توانائی اوراسکے تمام ذیلی اداروں میں شاہ خرچیوں پرپابندی ہوگی اورحکومتی خزانے سے غیرضروری اخراجات ناقابل برداشت ہونگے ۔ ان خیالات کا اظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان نے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ،پیڈوہائوس کے دورے کے موقع پر توانائی کے جاری منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسرپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ نے صوبے میں جاری توانائی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ پیڈوکے زیرنگرانی پن بجلی کی پیداوار کے متعدد چھوٹے،درمیانے اوربڑے منصوبوں پرحکومتی اورنجی سطح پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیداہوگی،اسکے علاوہ شمسی توانائی کے متعدد منصوبے بھی زیرتکمیل ہیں،انہوں نے بتایاکہ حکومت کلین انرجی پالیسی کے تحت صوبے میں دستیاب وسائل سے سستی ترین بجلی کی پیداواری منصوبوں کوترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سوات میں84میگاواٹ مٹلتان ہائیڈروپاورپراجیکٹ،چترال میں 69میگاواٹ لاوی ہائیڈروپاورپراجیکٹ،ضلع دیرمیں40میگاواٹ کوٹوہائیڈروپاورپراجیکٹ پر حکومتی سطح پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ پاکستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیئرورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیواو) ضلع چترال میں 506میگاواٹ کے 3پن بجلی کے منصوبوںلاسپورموجی گرام ہائیڈروپاورپراجیکٹ230میگاواٹ، شوشگئی زھنڈولی ہائیڈروپاورپراجیکٹ144میگاواٹ اورشوگوسن ہائیڈروپاورپراجیکٹ132میگاواٹ پرکام کررہی ہے۔سیکرٹری توانائی سلیم خان نے توانائی کے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہائیڈل صوبے میں بجلی کی پیداوارکا سستاترین ذریعہ ہے۔انہوں نے محکمہ توانائی کے افسران پر زوردیاکہ وہ فاٹاانضمام کے بعد ہرضلع میں توانائی کے وسائل کوتلاش کرنے کے لئے ازسرنوجائزہ لیں اورحکومتی سطح پر پیسکو/واپڈاکی طرز پر اپنی ٹرانسمیشن اینڈڈسٹری بیوشن لائن کی تعمیرکے لئے ایک جامع منصوبہ بھی تیار کریں