National News

قومی خبریں

October 18 2018 swat-post-calendar-the-federal-government-is-on-a-page-for-development-chief-minister

ہوسکتا ہے آئی ایم ایف کے پا س نہ جائیں، وزیراعظم

hello

اسلام آباد( آئن لاین نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال میں بہتری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کیلئے دوست ممالک سے رابطے کررہے ہیںاور اس سلسلے میں عنقریب وہ دوست ممالک کا دورہ کریں گے جس کے بعد ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے اور توقع ہے اپنی پالیسیوں سے بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے تاہم اگرآئی ایم ایف سے قرض لینا بھی پڑے تو ایسی شرائط پر لیں گے کہ ہماری آئندہ نسلوں پر کوئی زیادہ بوجھ نہ پڑے۔وہ اسلام آباد میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن( پی بی اے) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر (سی پی این اے)کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پرآل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وزیر ریلوے شیخ رشید، افتخار درانی اور فیصل جاوید بھی موجود تھے ملاقات میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے نیوز پرنٹ پر عائد 5 فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ ان کی حکومت میڈیا کو دبانے کیلئے اشتہارات کی پالیسی سخت کی ہے ان کا کہنا تھا کہ میری 22سال کی سیاسی جدوجہد کے دوران پرنٹ میڈیا نے انہیں بھرپور انداز میں سپورٹ کیاجس کی وجہ سے وہ آج اقتدار میں ہیں اس لئے وہ میڈیا کے خلاف کسی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن ملک کے اقتصادی مسائل کی وجہ سے میڈیا کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ان کی حکومت میڈیا انڈسٹری کو سپورٹ کر ے گی اور اس کے مسائل حل کرے گی تاہم اس کے لئے متوازن پالیسی بنائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت میڈیا کی آزادی پریقین رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی کسی خبر کے حوالے سے میڈیا پر دبائو نہیں ڈالاتاہم میڈیا کو خود ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیئے۔انہوں نے اس سلسلے میں وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر مملکت شہریار آفریدی کے حوالے سے چلنے والی خبروں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے اور جب وزیر خزانہ کو ہٹانے کی خبریں آئیں گی تو اس سے معیشت کو مزید دھچکا لگے گا۔اسی طرح شہریار آفریدی نے اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے ساڑھے تین ارب روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا یہ ایک ایسا مافیا تھا جس پرقانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ہاتھ ڈالنے سے گریز کرتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے چینل مالکان کو مشورہ دیا کہ اگر مالی مسائل درپیش ہیں تو اینکروں کی بڑی بڑی تنخواہوں پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، صحت اور ثقافت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیوں کہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی مشکلات کو کم کیا جائے۔اور ہمارے سخت فیصلوں کے باعث مختصر عرصہ میں تبدیلی نظر آگئی اور اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ 128اکائونٹ ایسے پکڑے گئے جن میں اربوں کی ٹرانزکشن کی گئی اور یہ اکائونٹ فالودہ فروشوں،ریڑھی والے، طلبا اور رکشہ والوں کے نام پر تھے۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کوجمہوریت کی کوئی فکر نہیں بلکہ انہیں اس دولت کی فکر ہے جو وہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرچکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پارٹی کو مسلسل دوسری بار اقتدار کا موقع دیا گیا حالانکہ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت نے کوئی بڑے بڑے کام بھی نہیں کئے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں نے صوبے میں بالکل کوئی کام نہیں کیاجس کی وجہ سے عوام کو پی ٹی آئی کی کارکردگی بہتر نظر آئی۔