National News

قومی خبریں

September 13 2018 swat-post-calendar-budget-editing-consider-new-tax

بجٹ میں ترمیم ،نئے ٹیکس لگانے پر غور

hello

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنامنی وفاقی بجٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔مالی سال 19-2018 کے فنانس بل میں بڑی ترامیم کی تجاویزسامنے آئی ہیںجن کے تحت گزشتہ دور حکومت میں دیئے گئے ٹیکس استثنی ٰ میں تبدیلی کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن )کی سابق وفاقی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت اس حد کو کم کرکے 8 لاکھ تک کرے گی،ایک تجویز اس حدکو4لاکھ تک لانے کی بھی زیر غورہے ۔ تمام درآمدی اشیا پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز بھی دی گئی ہے جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کااندازہ لگایاگیاہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 14 ستمبر کو اسی مقصد کیلئے طلب کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے اب تک کئی اہم فیصلے کیے جن میں کابینہ اراکین کیلئے بیرون ملک علاج کی سہولت ختم کرنا،سرکاری رہائش گاہوں کے استعمال کی پالیسی پرنظرثانی ،وزیراعظم ہائوس کی گاڑیوں کی نیلامی،ادارہ جاتی اصلاحات کافیصلہ شامل ہے ۔ اب تحریک انصاف کی حکومت نے ایک اوربڑافیصلہ کیا ہے جس کے مطابق وہ اپنا بجٹ خود پیش کریں گے اور مالی سال 19-2018 کے فنانس بل میں بڑی ترامیم لائیں گے۔اسی مقصد کے لئے14ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق 150پرتعیش اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائدکرنے، انکم ٹیکس کی شرح 30 جون سے پہلے والی سطح پر لانے کی تجویز زیر غور ہے جس کے نتیجے میں400سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ایف بی آر نے 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے اور تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ منی بجٹ کے لیے وزارت تجارت کی جانب سے ٹیرف لائنز پالیسی تیار کرلی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں انویسٹمنٹ پالیسی اور نئی 5 سالہ تجارتی پالیسی بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آج جمعرات کی سہ پہر وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میںوفاقی وزیر خزانہ اور وزارت کے حکام بجٹ سے متعلق بریفنگ دیں گے ،اس موقع پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کی تجاویز بھی زیر غور آئیں گی ۔ذرائع کے مطابق فنانس ایکٹ میں ترامیم قومی اسمبلی اجلاس میں منظور کرائی جائیں گی جس کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے ،جس کے ذریعے 800 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائیگا۔ حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کمی کا ارادہ رکھتی ہے اور 400 ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز بھی لگائے جاسکتے ہیں۔