Khabar Pakhtoon Khwa News

خیبر پختونخواہ

October 23 2018 swat-post-calendar-the-army-handed-over-control-of-swat-to-the-civil-administration

فوج نے سوات کا کنٹرول سول انتظامیہ کو دیدیا

hello

سوات(بیورورپورٹ)سوات میں گیارہ سال بعد پاک فوج نے تمام اختیارات سول انتظامیہ اور پولیس کے حوالے کردیئے جس کے بعد فوج مرحلہ وارسوات سے واپس چلی جائے گی صرف ایک بریگیڈ فوج کانجو میں چھائونی میں رہے گی۔ اختیارات منتقلی کی تقریب سیدو شریف ائیر پورٹ پرہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان تھے۔ تقریب میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیراحمد بٹ، میجر جنرل خالد سعید، آئی جی خیبر پختون خوا صلاح الدین محسود صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت علی یوسف زئی، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ضلع و تحصیل ناظمین نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں پاک فوج کے افسر نے ایک جھنڈے کے ذریعے فورسز کے اختیارات آر پی او محمد سعید وزیرکے حوالے کردیئے۔ بریگیڈئیر نسیم نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام کو شیلڈپیش کر کے سول اختیارات حوالہ کئے۔ اختیارات کی منتقلی کے بعد فوج پچھلی نشستوں اور پولیس اگلی نشستوں پر منتقل ہوگئی ۔ سوات میں 2007ء میں مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں شدت پسندوں کی جانب سے سکولوں، پلوں، سرکاری عمارات کو جلانے اور بے گناہ لوگوں اور پولیس کو مارنے کے بعد حکومت نے فوج کوطلب کیا تھا جس کے بعد فوج نے سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا اور تمام انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ سال2009ء میں سوات کے لوگوں کی نقل مکانی کے بعد آپریشن مکمل کیا گیا جس کے بعد سوات کے لوگ واپس اپنے گھروں میں آئے ۔ سوات سے مرحلہ وار فوج جانے کے بعد ایک بریگیڈ فوج سوات میں رہ جائے گی جو چھائونی کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد چھائونی میں منتقل ہو جائے گی۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں شورش کے دوران میں حکومت نے یہاں دو ڈویژن فوج کو تعینات کیا تھا۔2009ء کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد ایک ڈویژن فوج کو واپس بلایا گیا اور ایک ڈویژن فوج اب بھی سوات میں موجودتھی جن میں سے مینگورہ اور مٹہ کے بریگیڈ گزشتہ دنوں سوات سے واپس جا چکے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق سوات سے میجر جنرل اور ڈیو ہیڈ کوارٹر دو سے تین ماہ میں منتقل ہو جائیگا اور ایف سی کیمپ کانجو میں موجود ایک بریگیڈ فوج سوات میں رہے گی جو بعد میں چھائونی میں منتقل ہو جائے گی۔اختیارات منتقلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سوات میں پائیدار قیام امن اور عوام میں مسکراہٹیں بکھیرنے پر اہل سوات پاک فوج کے شکر گزار ہیں۔ آرمی کے تعاون سے یہاں کی سول انتظامیہ اور پولیس بھی مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے۔ صوبائی حکومت بھی سوات کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی سکیموں کا آغاز کر چکی ہے۔ یہاں سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہر طرح کوششیں جاری رکھی جائیںگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک دہائی قبل اس خوبصورت وادی پر ملک دشمن عناصر نے قبضہ کر لیا تھا۔ دہشت گردوں نے معصوم عوام پر جو مظالم ڈھائے ان کابذات خود عینی شاہدہوں۔ یہ سوات کے عوام کے لئے سیاہ ترین دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سوات کے سماجی اور معاشی نظام کو جس بے دردی سے نقصان پہنچایا، اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ ہمارے تدریسی ادارے تباہ کئے گئے۔ خواتین پر ناجائز پابندیاں لگائی گئیں اور بے گناہ لوگوں کو مارا گیا۔ ایسے مشکل وقت میں پاک فوج، پولیس اور سوات کے عوام نے مل کر دشمن کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ کور کمانڈر پشاور جنرل نذیر بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وادی سوات کے عوام نے انتہائی بھیانک حالات کا سامنا کیا ہے۔35 لاکھ افراد نے ہجرت کی اور اپنی فورسز کا بھر پور ساتھ دیا جس کی وجہ سے سوات سے دہشت گردی ختم ہوئی۔ آج سوات کے عوام پرامن ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے چار مہینے کے مختصر وقت میں سوات سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا اور یہاں کے غیور عوام نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے امن قائم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سوات سے بھاگنے کے بعد دہشت گرد وں نے پڑوسی ملک میں پناہ گاہیں قائم کیں اور وہاں سے آکر اب حملوں کی کوشش کرتے ہیں جس کو ہم ناکام بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر خار دار تار لگانے اور چوکیاں قائم کرنے کا کام جاری ہے۔ اس کے مکمل ہونے کے بعد سرحد پار سے دہشت گردوں کا پاکستان میں داخلہ بند ہو جائے گا۔