Khabar Pakhtoon Khwa News

خیبر پختونخواہ

September 23 2018 swat-post-calendar-punchunkhwa-punishes-big-crime-punishments

پختونخوا میں بڑے جرائم کی سزاوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر

hello

پشاور(نیوزرپورٹر)پولیس اور استغاثہ کی استعدادکار، مالی مسائل اور اداروں کے درمیان عدم روابط کے باعث خیبر پختونخوا میں قتل اور اقدام قتل کے مقدمات میں ایک فیصد سے بھی کم شہریوں کو انصاف مل سکاہے۔ اس سلسلے میں سنٹرل پولیس آفس کرائم برانچ خیبر پختونخوا کی جانب سے محکمہ شماریات کوسالانہ رپورٹ کیلئے ارسال کئے گئے 2016کے اعداد وشمار کے مطابق قتل اور اقدام قتل وغیرہ کے6ہزار766واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے جن میں صرف46مقدمات میں سزائیں ہوئیں ان جرائم میں قتل کے2ہزار550واقعات میں26 اور اقدام قتل کے 2ہزار9سو77واقعات میں صرف19کیس اور اغواء کے الزام میں 12سو39 درج مقدمات میںسے صرف ایک کیس میںسزا دی گئی۔ ڈکیتی،رہزنی اور گاڑیاں لوٹنے اور چھیننے کے 3ہزار353واقعات پولیس نے رپورٹ کئے اور اس کے مقابلے میں صرف27میں سزائیں ہوئیں ان واقعات میں ڈکیتی کے حوالے سے رپورٹ کئے گئے67مقدمات میں سے ایک بھی کیس میں سزا نہیں ہوئی2014اور2015میں بھی کسی ایک کیس میں سزانہیں دلائی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گاڑیاں چھیننے اور رہزنی کیخلاف464مقدمات میں صرف ایک کیس جبکہ سال2014اور2015میں ایک بھی کیس میں سزانہیں دلوائی گئی اسطرح چوری کی دوسری عام وارداتوں اور گاڑیاں لوٹنے کے19سو82واقعات میں12کیس جبکہ سال2015میں اس کی تعداد تین اور2014میں1987وارداتوں کے مقابلے میں26کو سزائیں دی گئی تھیں رپورٹ کے مطابق پولیس کی کاردگی کم خطرناک یعنی معمولی جرائم کیخلاف سزائیں دینے میں کافی آگے رہی ہے جس میں3ہزار1سو61مقدمات میں سے113 میں سزائیں دیں جبکہ1145خطرناک واقعات میں صرف19کیس حل ہوئے رپورٹ کے مطابق عام جرائم کے سرزد ہونے کیخلاف پولیس کی کاردگی2014اور2015میں بھی بیان کی گئی ہے جس میںبالترتیب932اور1040کیسوں میں سزائیں ہوئیںواضح رہے کہ رواںبرس محکمہ شماریات کی رپورٹ کیلئے محکمہ پولیس کی جانب سے2014اور2015اور2016کے اعدوشمار فراہم کئے گئے ہیں۔