Health News

صحت

November 28 2018 swat-post-calendar-the-famous-drug-remedies-of-depression-revealed-anti-depression-antibiotics

ڈپریشن دور کرنے والی مشہور دوا کا اینٹی بایوٹکس کو ناکارہ بنانے کا انکشاف

hello

ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کی صورت میں دوا کھانے والوں کے لیے ایک بری خبر یہ ہے کہ اگر وہ ’فلوکسیٹائن‘ نامی مرکبات کی دوا استعمال کرتے ہیں تو امکان ہے کہ ان کے جسم پر اینٹی بایوٹکس ادویہ کی تاثیر بھی کم یا ختم ہوسکتی ہے۔

انوائرمینٹل انٹرنیشنل جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ پریشان کن خبر آسٹریلیا سے آئی ہے جہاں ماہرین نے کہا ہے کہ اب تک ہم سمجھ رہے تھے کہ اندھا دھند اینٹی بایوٹکس کھانے سے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ دوا کام نہیں کرتی لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں غیر اینٹی بایوٹکس ادویہ بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔

آسٹریلیا کی کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ڈپریشن کی مشہور دواؤں ’پروزیک‘ اور ’سارافیم‘ میں ایک کیمیائی مرکب فلوکسیٹائن استعمال ہوتا ہے جو سیروٹونِن ری اپ ٹیک انہبیٹر (ایس ایس آر آئی) ہے۔ یہ دوا اینٹی بایوٹکس کو ناکارہ بناسکتی ہے۔

 

 

ماہرین نے اس کے لیے پہلے ای کولائی بیکٹیریا لیے اور انہیں 30 روز تک مختلف شدت والے فلوکسیٹائن محلول میں ڈبویا اور اس طرح بیکٹیریا کی تبدیل شدہ کیفیات تیار ہوئیں۔

اگلے مرحلے میں ان بیکٹیریا کو خاص امتحانی ڈشوں میں ڈالا گیا جس میں ایک طاقتور اینٹی بایوٹکس موجود تھی۔ دیکھا گیا کہ اب بیکٹیریا ان دواؤں کے سامنے ڈھیٹ بن چکے ہیں اور ختم نہیں ہو پارہے۔ فلوکسیٹائن سے دھلے بیکٹیریا کلورم فینیکول، اماکسی سائلین اور ٹیٹرا سائیکلین کے سامنے پانچ کروڑ گنا طاقتور ہوچکے تھے۔

فلوکسیٹائن کی مقدار جتنی زیادہ بڑھائی گئی خود بیکٹیریا بھی دوا کو اتنا ہی بے اثر کرنے لگے۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے جو مریض فلوکسیٹائن کھاتے ہیں اس کی 11 فیصد مقدار جسم میں گھومتی رہتی ہے اور پیشاب کے راستے ماحول میں شامل ہوجاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا فلوکسیٹائن دوا بیکٹیریا کو مضبوط کرکے اینٹی بایوٹکس کو بے اثر کررہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماہرین صابن سے لے کر ٹوتھ پیسٹ میں عام استعمال ہونے والے کیمیکل ’ٹرائی کلوسین‘ کو بھی اینٹی بایوٹکس مزاحمت کی اہم وجہ قرار دے چکے ہیں۔