Health News

صحت

July 28 2018 swat-post-calendar-hepatitis-b-and-c-virus-in-pakistan-became-a-panic

پاکستان میں ہیپا ٹائٹس بی اور سی وائرس ہولناک صورت اختیار کر گیا

hello

 کراچی: ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس شدت اختیار کررہا ہوزنامہ ایکسپریس اور گیٹز فارماکے اشتراک سے منعقدہ ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے حوالے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین صحت نے بتایا کہ یہ وائرس پاکستان میں دوسرے نمبرآگیا ہے بی اورسی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جوہولناک ہورہی ہے پاکستان میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی ڈی اور ای وائرس موجود ہے۔سیمینار گیٹز فارما کمپنی میں منعقدکیاگیاجس میں گیٹز فارماکے مینجنگ ڈائریکٹر خالد محمود، آغاخاں یونیورسٹی واسپتال کے معروف ہیپاٹائٹس کے معالج پروفیسر سید وسیم جعفری،ڈاکٹر لبنی کامانی، ڈاکٹرمحمد صادق اچکزئی، ڈاکٹرزاہد اعظم اور ڈاکٹر صالح محمد چنا نے ہیپاٹائٹس وائرس سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے آگاہی فراہم کی، سیمینار خطاب کرتے ہوئے گیٹز فارما کے ایم ڈی خالد محمود نے کہاکہ گیٹز فارما پاکستان کی فارما انڈسٹری میں سب سے بڑی واحد کمپنی ہے جہاں عالمی معیارکے مطابق دواسازی کا کام جاری ہے ہماری کمپنی عالمی ادارہ صحت سے تصدیق شدہ ہے۔ن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں علم الادویہ کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق ہمارے پاس ماہرین کا مشاورتی بورڈ بھی موجود ہے جبکہ شعبہ تحقیق میں ماہرین شامل ہیں،گیٹز فارماکوالٹی اورعوام کی صحت کواپنا نصب العین سمجھتی ہے۔سیمینار سیے پروفیسروسیم جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس ہولناک صورت اختیار کررہا ہے ملک بھر میں ان دونوں وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریباڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے،انھوں نے کہاکہ بی وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین موجود ہے جبکہ سی وائرس لاحق ہونے کی صورت میں علاج بھی موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنے اپلخانہ کے بی اورسی کے ابتدائی ٹیسٹ کرائے تاکہ ان وائرس کی تصدیق کی جاسکے،انھوں نے کہاکہ بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤکی حفاظتی ویکسینشن کرائی جائے تاکہ نوزائیدہ بی وائرس سے زندگی بھر کیلیے محفوظ ہوسکے، پروفیسر وسیم جعفری نے بتایا کہ اب سی وائرس کے مریضوں کا علاج آسانی سے کیاجارہا ہے ادویہ سستی ہوگئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ غیروری ادویہ بھی جگر کو نقصان پہنچاتی ہیں لہذا ادویہ کا ازخود اوربالخصوص اینٹی بائیٹک دواؤںکااستعمال صرف ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی کیاجائے، اس وقت پاکستان میں 5اقسام کے ہیپا ٹائٹس وائرس موجود ہیں ان میں اے، بی سی، ڈی اور ای وائرس شامل ہیں،انھوں نے کہاکہ بی وائرس لاحق ہونے کی صورت میں مستند لیورکے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے عدم توجہی اور لاپرواہی کی صورت میں لیور سروسس ہوجاتا ہے جس میں جگرسکٹرجاتا ہے جس کے بعد یہ کینسرکی شکل اختیارکرلیتا ہے۔ڈاکٹر لبنی کامانی نے ہیپاٹائٹس ای کے حوالے سے بتایا کہ یہ وائرس 15سے40سال عمر کے درمیان میں ہوتا ہے، یہ وائرس ایشیائی اورخلیجی ممالک عام ہے، ای وائرس احتیاط کرنے سے ٹھیک ہوجاتا ہے تاہم ای وائرس خواتین میں دوران حمل زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اس وائرس کا شکار مریضوںکو اینٹی بائیٹک کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا دوران حمل خواتین کو ای وائرس کوچیک کرانا ضروری ہوتا ہے۔بولان میڈیکل کالج کے ڈاکٹرمحمد صادق اچکزئی نے ہیپاٹائٹس ڈی(ڈیلٹا) وائرس کے حوالے سے بتایا اورکہاکہ ڈی وائرس صرف اس مریض کو ہوتا ہے جو بی وائرس کا مریض ہو، بی اور ڈی وائرس کی علامات بھی یکساں ہوتی ہیں، ڈی وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے بی وائرس سے بچنا ہے۔ڈاؤ انٹرنیشنل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد اعظم نے سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہاکہ زندگی میں ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثر ہونے کے 60فیصد امکانات ہوتے ہیں، بی وائرس کا علاج نہیں لیکن اس وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ویکسین موجود ہے لہذا بچے کی پیدائش کے بعد بی وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگوائی جائے۔ڈاکٹر صالح محمد چنا نے کہاکہ ہیپاٹائٹس جگر کی مہلک بیماری ہے یہ وائرس ہے تاہم ہیپاٹائٹس اے وائرس یہ آلودہ پانی ، آلودہ کھانوں سے لاحق ہوتا ہے پاکستان کی 96فیصد افرادکسی نہ کسی طرح ہیپاٹائٹس اے وائرس سے متاثر ہیں۔