Health News

صحت

July 14 2018 swat-post-calendar-four-types-of-cancer-prevention-futures-pomegranate

چار قسم کے کینسر کو پھیلنے سے روکنے والا پھل ’انار‘

hello

برکلے، کیلیفورنیا: 

 

انار وہ خوش ذائقہ اور خوبصورت پھل ہے جس کے متعلق تازہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ دل کے امراض میں مفید ہونے کے ساتھ ساتھ کئی اقسام کے کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی بہت مفید ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انار کے اجزا اور رس سرطان پر کئی طرح سے حملہ آور ہوتے ہیں اور صحت مند خلیات (سیلز) کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ اگرچہ اس پرمزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ابتدائی اندازوں سے معلوم ہوا ہے کہ انار ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں (جو کینسر کی وجہ بنتی ہے) کو روکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انار میں کینسر سے لڑنے والا ایک اہم خامرہ (اینزائم) پیرا اوکسونیس ون (پی او این ون) آکسیجن کی کمی اور سوزش کو دور کرتا ہے جو ڈی این اے میں تبدیلی کی وجہ بنتے ہیں اور اس طرح کینسر کو روکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیکھا گیا ہے کہ کینسر کے مریضوں میں پی او این ون کی بہت کم مقدار موجود ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں انار کینسر زدہ خلیات کو بھی دیگر صحت مند حصوں تک پھیلنے سے بھی روکتے ہیں ساتھ ہی انار کا رس روزانہ پینے سے جسم میں سوزش اور جلن پیدا کرنے والے کیمیکل اور پروٹین کی بھی کمی واقع ہوتی ہے۔

اسی بنیاد پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ انار کھانے سے چھاتی کے سرطان اور پروسٹیٹ غدے (گلینڈ) کے کینسر کو روکنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ ایک اور تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ انار کا رس چھاتی کے سرطان کے پھیلاؤ کو 80 فیصد روکتا ہے۔

دوسری جانب تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پھیپھڑے اور بڑی آنت کے سرطان کو روکنے میں بھی انار اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کےلیے انار کے اجزا کو تجربہ گاہ میں جانوروں پر آزمایا گیا تو دونوں امراض کی سرطانی رسولیاں دو تہائی حد تک کم ہوگئیں۔

غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ انار کے موسم میں اس کا بالکل خالص رس پیا جائے جس میں کسی اور پھل کا جوس شامل نہ ہو اور نہ ہی اس میں مٹھاس ملائی جائے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس کے ماہرین نے بتایا ہے کہ انار کے رس میں 100 طرح کے پولی فینولز اور اینٹی آکسیڈںٹس پائے جاتے ہیں جو اسے ’سپر پھل‘ بناتے ہیں۔