Health News

صحت

June 20 2018 swat-post-calendar-exercise-is-not-sufficient-for-treatment-of-dementia-more-steps-are-needed,-research

ڈیمینشیا کے علاج کیلئے ورزش کافی نہیں، مزید اقدامات کی ضرورت ہے، تحقیق

hello

 لندن: 

 

باقاعدگی سے کسرت کے عادی افراد ذہنی بیماری ’ ڈیمینشیا‘ سے محفوظ رہتے ہیں تاہم ایک بار یہ بیماری ہوجائے تو پھر جسمانی ورزش مرض کی شدت کم کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔

شعبہ طب کے معروف تحقیقی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ڈیمینشیا کے مریضوں میں باقاعدگی سے کی جانے والی جسمانی ورزش مرض کی شدت میں کمی کا باعث نہیں ہوتی، ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا 500 افراد پر کی گئی تحقیق نے پرانی تحقیق کو غلط ثابت کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ورزش ڈیمینشیا کے مرض پر قابو پانے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق میں 500 مریضوں کو شریک کیا گیا جن میں سے 329 کو چار مہینے تک باقاعدگی سے ہفتے میں دو بار 60 سے 90 منٹ تک ورزش کرائی گئی جب کہ ان مریضوں کو گھر پر بھی ایک گھنٹہ ورزش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی طرح بقیہ مریضوں کا بغیر ورزش کے علاج جاری رکھا گیا۔ تمام مریضوں کی اوسط عمر 77 برس تھی۔

تحقیق کے 8 ماہ پورے ہونے کے بعد دونوں گروپس میں شامل مریضوں کا خصوصی معائنہ اور تجزیہ کیا گیا جس سے پتا چلا کہ ورزش کرنے والے گروہ اور بغیر ورزش کے علاج جاری رکھنے والے مریضوں میں کوئی فرق سامنے نہیں آیا۔ دونوں گروہوں میں ڈیمینشیا کی علامات برابر تھیں اور دونوں گروہ کے مریضوں میں مرض کی شدت میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔

برطانیہ کے کنگز کالج کے ماہر نفسیات نے اس تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ ڈیمینشیا کے مریضوں کے کامیاب علاج کے لیے ورزش کے بجائے اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس میں مکمل توجہ، پائیدار باہمی التفات اور مسلسل خبر گیری زیادہ اہم ہیں۔