Health News

صحت

November 08 2018 swat-post-calendar-diabetes--introduction-care-and-treatment

ذیابیطس۔۔۔ تعارف، احتیاط اور علاج

hello

ذیابیطس ایک مہلک بیماری ہے جو دیگر جان لیوا امراض کا بھی سبب بنتی ہے۔

 

پاکستان بدقسمتی سے دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں ہر دسواں شخص ذیابیطس کے مرض کا شکار ہے۔ اس وقت ملک میں نوملین سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ جسمانی محنت کی کمی، موٹاپا اور غیر متوازن غذائیں وہ عوامل ہیں جن کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اس خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اس مرض کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 25برسوں میں یہ تعداد 14ملین تک بڑھنے کا امکان ہے۔

پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے کیے جانے والے ایک قومی سروے 16-2017 کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔اِس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان یا کسی بھی ترقی پذیر ملک میں کرایا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا بہت اہم سروے ہے۔

 

 

اس سروے کو بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ اینڈو کرائینولوجی ( BIDE) نے پاکستان کی وزارتِ صحت، پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چلنے والی ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر کرایا ہے۔اس سروے میں گزشتہ سال اگست کے مہینے سے رواں سال کے دوران عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق تقریباً گیارہ ہزار افراد کے ذیابیطس کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے7.14 فیصد ذیابیطس کے نئے مریض سامنے آئے یعنی جنھیں خود نہیں معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں۔

ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے۔ اس پر موثر کنٹرول کے لیے محتاط غذا، منصوبہ بندی، باقاعدہ ورزش یا ادویات کا استعمال ضروری ہے۔ اس مرض میں خون میں شوگر مطلوبہ حد سے بڑھ جاتی ہے اور ایسا لبلبے میں پیدا ہونے والے ہارمون ’انسولین‘ کے متاثر ہونے سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسولین کی یہ کمی دو طرح کی ہوسکتی ہے۔

اول: لبلبے سے انسولین کی پیداوار ہی کم یا ختم ہو جاتی ہے یا

دوم: لبلبے سے انسولین تو پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن کسی وجہ سے اس کا اثر کم ہو جاتا ہے، اس کیفیت کو انسولین کی بے اثری کہا جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ شوگر ہمارے خون کا انتہائی لازمی اور مستقل جزو ہے۔ہم اپنی خوراک میں جتنی بھی نشاستہ دار غذائیں استعمال کرتے ہیں وہ ہماری آنتوں میں جاکر شوگر میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور یہی شوگر بعد میں خون میں شامل ہو جا تی ہے۔ ہمارے جسم کے اکثر اعضا اسی شوگر کو ایندھن کی طرح استعمال کرکے توانائی حاصل کرتے ہیں اور اگر خون میں شوگر موجود نہ ہو، یا بہت زیادہ کم ہو جائے تو ان اعضا کا کام متاثر ہوتا ہے۔ ایک نارمل انسان کے خون میں شوگر کی مقدار قدرت کی طے کی ہوئی حدوں کے اندر ہی رہتی ہے، جبکہ ذیابیطس کی حالت میں شوگر نارمل حد سے بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس سے متاثر افراد میںمندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ ذیابیطس کی حتمی تشخیص کے لیے خون میں شوگر کی مقدار چیک کرانا لازمی ہے۔ اگر کسی شخص کے خون میں شوگر مقررہ حد سے زیادہ ہے تو شوگر کی کوئی علامت ہو یا نہ ہو، اْسے ذیابیطس ہو چکی ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تمام علامات پائی جائیں لیکن خون میں شوگر نارمل ہے تو اْسے ذیابیطس ابھی نہیں ہوئی۔

ذیابیطس (شوگر) کی علامات

درج ذیل علامات ذیابیطس کے مرض کی وجہ سے ہوسکتی ہیں لہٰذا کسی ایک یا زائد علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭تھکاوٹ کا احساس

٭بھوک اور پیاس میں اضافہ

٭پیشاب کی زیادتی

٭ہاتھوں یا پیروں کا سن ہونا یا جھنجھناہٹ

٭انفیکشن کا با ر بار ہونا

٭بینائی میں دھندلاپن

٭زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا

٭خشک کھردری جلد/خارش

٭جنسی مسائل

ذیابیطس کی اقسام

ذیابیطس کی درج ذیل دو اقسام ہیں:

ذیابیطس ٹائپ 1:  یہ بچپن یا اوائل عمری میں ہوتی ہے، اس میں انسولین قدرتی طور پر جسم میں کم پیدا ہوتی ہے ، اس کا علاج انسولین کے بغیر ممکن نہیں۔

ذیابیطس پائپ 2:  یہ ذیابیطس کی عام قسم ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں دس میں سے کم از کم نو ٹائپ 2میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بڑی عمر کے افراد میں ہوتی ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم میں بننے والی قدرتی انسولین مؤثر طور پر استعمال نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس (ٹائپ 2) کے اسباب

ذیابیطس (ٹائپ2)کے اسباب حتمی طور پر مکمل معلوم نہیں ، البتہ یہ عموماً ان لوگوں میں ہوتی ہے جو:

٭چالیس برس سے زائد عمر کے ہوں

٭زائد وزن رکھتے ہوں

٭ خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس موجود ہو

٭خواتین جن کو دوران حمل ذیابیطس ہو چکی ہو

٭خواتین جنہوں نے 9پونڈ سے زیادہ وزن کے بچے کو جنم دیا ہو

٭ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہوں

ذیابیطس سے جسمانی پیچیدگیاں

بلڈ شوگر لیول کا بار بار کم یا زیادہ ہونا مریض کو معمولات زندگی صحیح طور پر انجام دینے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ اگر بلڈشوگر متواتر کئی برس تک نارمل حد سے زیادہ رہے تو جسم کے مختلف حصوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور عارضہ قلب ، فالج ، آنکھوں کے مسائل، گردوں کی خرابی اور اعصاب کی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔ بلڈ شوگر لیول کو مستقل طور پر کنٹرول کرنے سے ہی مختصر مدت اور طویل مدت کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

دیابیطس اور دل کے امراض

خون میں شوگر (گلوکوز) کی زیادہ مقدار سے خون کی رگیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم کے اہم اعضاء بالخصوص دل اور دماغ کو خون کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو عام لوگوں کی نسبت دل کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔

ذیابیطس سے پاؤں کے مسائل

ذیابیطس کے مریضوں میں ٹانگوں کے نچلے حصے اور پاؤں کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں سرفہرست اعصاب کو اس حد تک نقصان پہنچنا کہ پاؤں میں درد یا زخم کو محسوس نہ کیا جا سکے۔ کچھ مریضوں کو محض اس لیے اپنے پاؤں سے محروم ہونا پڑتا ہے کہ درد محسوس نہ ہونے کے باعث ان کے پاؤں کے زخموں کا بروقت علاج نہیں ہو پاتا۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے لازم ہے کہ :

٭ننگے پاؤں نہ چلیں۔ جوتا ایسا استعمال کریں جو نرم ہو، پاؤں کو ڈھانپنے والا اور تنگ نہ ہو۔

٭پاؤں کا بلا ناغہ روزانہ معائنہ کریں ، تلوے کے سامنے شیشہ رکھ کر جائزہ لیں تاکہ بہت معمولی زخم بھی مخفی نہ رہ جائے۔

٭پاؤں کی باقاعدگی سے صفائی کریں، نیز انگلیوں کی درمیانی جگہ کی بھی صفائی کا خیال رکھیں۔

٭کسی رخم ، خراش یا کانٹا چبھنے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

ذیابیطس کی تشخیص

ذیابیطس کی علامتیں اکثر واضح یا ظاہر نہیں ہوتیں۔ اگر علامتیں ظاہر بھی ہوں تو بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے پیاس لگنا ، بدن میں پانی کا کم ہو جانا (ڈی ہائیڈریشن)، پیشاب کی کثرت ، دھندلا نظر آنا، تھکن اور سستی۔ یہی وجہ ہے کہ مرض کی تشخیص عموماً اسی وقت ہوتی ہے جب معمول کا طبی معائنہ کروایاجا رہا ہویا کسی پیچیدگی کی صورت میں میڈیکل چیک اپ کیا جا رہا ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض یا آپریشن کے لیے ہسپتال میں داخلے کے دوران ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے۔

ذیابیطس (ٹائپ 2) کا علاج

ذیابیطس (ٹائپ 2)کے موجودہ طرز علاج کے تحت درج ذیل طریقوں سے بلڈ شوگر (گلوکوز) کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

٭خوراک میں تبدیلی اور اعتدال

٭فربہ افراد (overweight)کا وزن کم کرنا، جس کے لیے باقاعدہ ورزش اور جسمانی فعالیت والا طرز زندگی اختیار کیا جاتا ہے۔

٭مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ ایک یا زائد ادویات یا انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔

(مصنف چیئرمین نیورولوجی، ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن ، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اور سابق صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن  ہیں)۔