Column

کالم

July 08 2018 swat-post-calendar-zero-semester

زیرو سمسٹر

hello

ذوالفقار علی چاچڑ سندھ کے شہر ڈھرکی سے پچیس کلو میٹر دور امان چاچڑ میں پیدا ہوا‘ والد قلفی فروش تھا‘ یہ اسکول جاتا تھا اور واپسی پر والد کے ساتھ قلفیاں بیچتا تھا‘ پڑھائی کا بے تحاشہ شوق تھا‘ یہ قلفیاں بیچنے کے دوران اپنے سبق دہراتا رہتا تھا‘ توجہ بٹ جاتی تھی تو لوگ قلفیوں کی ادائیگی کے بغیر بھاگ جاتے تھے اور یہ والد سے مار کھاتا تھا۔

 

گاؤں میں ’’دی سٹیزن فاؤنڈیشن‘‘ نے خیراتی اسکول بنا رکھا تھا‘ یہ اس اسکول میں پڑھتا رہا‘ کتابیں فاؤنڈیشن سے لے لیتا تھا‘ والد کے پرانے کپڑے کاٹ کر پہن لیتا تھا‘ اسکول فیس معاف تھی اور کھانا مانگ تانگ کر کھا لیتا تھا‘ تعلیمی معیار کی حالت یہ تھی یہ آٹھویں جماعت تک ’’سیل‘‘ کے اسپیلنگ نہیں جانتا تھا‘ یہ بہرحال گرتا پڑتا میٹرک کر گیا‘ کالج گاؤں سے 35 کلو میٹر دور تھا۔

سٹیزن فاؤنڈیشن نے اسے وظیفہ دے دیا لیکن وظیفہ بس کا کرایہ بھی پورا نہیں کر پاتا تھا‘ یہ شام کو والد کے ساتھ قلفیاں بھی بیچتا تھا‘ کالج نے اس کی مشکلات کا اندازہ کیا چنانچہ اسے گھر میں بیٹھ کر پڑھائی کی اجازت دے دی‘ یہ کلاس فیلوز سے نوٹس لے لیتا اور قلفیاں بیچتے بیچتے رٹا لگاتا رہتا‘ والد نے اس دوران اسے قلفیوں کی دکان بنا دی یوں پورے گھر کا بوجھ اس کے کندھوں پر آ گیا‘ یہ قلفیاں بیچتا رہا اور پڑھتا رہا‘ یہ اس طرح ایف اے کر گیا۔

ذوالفقار علی چاچڑ کا تعلیمی سلسلہ ایف اے کے بعد رک گیا‘ یہ ایک دن دکان پر بیٹھا تھا‘ اس کے ایک دوست نے اسے بتایا سکھر کی آئی بی اے یونیورسٹی ’’زیرو سمیسٹر‘‘ کے نام سے پروگرام چلا رہی ہے‘ طالب علم اپلائی کرتے ہیں‘ ٹیسٹ دیتے ہیں‘ یہ اگرکامیاب ہو جائیں تو یونیورسٹی انھیں چھ ماہ کامفت فاؤنڈیشن کورس کراتی ہے‘ یہ اگر کورس میں اچھے نمبر لے لیں تو یونیورسٹی انھیں ڈگری تک وظیفہ دے دیتی ہے۔

دوست نے اسے مشورہ دیا ’’تم بھی اس میں اپلائی کر دو‘‘ لیکن ذوالفقار چاچڑ نے انکار کر دیا‘ یہ دکان نہیں چھوڑ سکتا تھا‘ دوست نے اصرار کیا‘ وہ اسے بار بار کہتا رہا ’’کر کے دیکھتے ہیں زیادہ سے زیادہ جوائن نہیں کریں گے‘‘ ذوالفقار علی چاچڑ نے دوست کی ضد سے مجبور ہو کر فارم جمع کرا دیا‘ ٹیسٹ ہوا‘ یہ پاس کر گیا‘ دوستوں نے والد کی منت کر کے اس کے چھوٹے بھائی کو دکان پر بٹھایا اور یہ آئی بی اے سکھر چلا گیا۔

فائنل امتحانات سے دو ہفتے قبل اس کا بھائی فوت ہو گیا‘ دکان دوبارہ اس کا راستہ دیکھنے لگی‘ یہ واپسی کے لیے سامان باندھ رہا تھا لیکن اس کے آٹھ کلاس فیلوز سامنے آئے‘ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور اسے دکان کی انکم کے برابر رقم دے دی‘اس نے فائنل امتحان دیا‘ یہ اسکالر شپ جیت گیا‘ آئی بی اے سے بی بی اے کیا اور کوکاکولا کراچی میں شاندار جاب کر لی‘ یہ اپنے گاؤں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ترین نوجوان ہے‘ یہ اب اپنے گاؤں میں اسکول بنانے کی کوشش کر رہا ہے‘ یہ ’’اسٹریٹ چلڈرن‘‘ کے لیے بھی اسکول چلا رہا ہے۔

یہ صرف ذوالفقار علی چاچڑ کی کہانی نہیں‘ سندھ میں اس وقت دو ہزار ذوالفقار علی چاچڑ ہیں‘یہ تمام لوگ ایک سابق بیورو کریٹ ڈاکٹر نثار احمد صدیقی کی پراڈکٹ ہیں‘ نثار احمد صدیقی سکھر کے کمشنر رہے‘ وفاقی سیکریٹری بھی رہے‘ یہ سرکاری ملازمت سے تعلیم کے شعبے میں آگئے‘ سکھر میں 1994ء میں آئی بی اے بنا‘ یہ ڈائریکٹر ہو گئے‘سندھ حکومت نے مئی 2017ء میں آئی بی اے سکھر کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا‘ یہ وائس چانسلر بن گئے۔

ڈاکٹر صاحب تعلیم سے وابستگی کے دوران محسوس کرتے تھے سندھ کے طالبعلم رٹے اور نقل کی وجہ سے بورڈز سے بہت اچھے نمبر لے لیتے ہیں لیکن یہ جب یونیورسٹیوں میں پہنچتے ہیں تو یہ معیار تعلیم کا مقابلہ نہیں کر پاتے چنانچہ یہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں‘ آئی بی اے میں اس وقت ڈراپ آؤٹ کی شرح 58 فیصد تھی‘ ڈاکٹر صاحب نے ریسرچ کرائی‘ پتہ چلا سندھ سے ایف اے کرنیوالے طالب علموں کا ذہنی معیار آٹھویں جماعت کے برابر ہے۔

ڈاکٹر نثار احمد صدیقی نے اس صورتحال کا ایک دلچسپ حل نکالا‘ انھوں نے آئی بی اے سکھر میں ’’زیرو سمیسٹر‘‘ کے نام سے فاؤنڈیشن کورس شروع کرا دیا‘ یہ کورس نہ صرف مفت تھا بلکہ یونیورسٹی طالبعلم کو ہاسٹل‘ کھانا‘ کپڑے‘ کتابیں اور جوتے بھی فراہم کرتی تھی‘ یہ انھیں ماہانہ تین ہزار روپے (اب پانچ ہزار) بھی دیتی تھی‘ طالب علموں کو زیرو سمیسٹر میں انگریزی‘ ریاضی اور کمپیوٹر تین مضامین پڑھائے جاتے تھے‘ زیروسمیسٹر کے لیے ذوالفقار علی چاچڑ جیسے غریب‘ پسماندہ اور دیہاتی طالبعلم لیے جاتے تھے۔

طالبعلموں میں سے جو دواعشاریہ دو جی پی اے لے لیتا تھا یونیورسٹی اسے داخلہ دے کر پہلے سمیسٹر کی فیس معاف کر دیتی تھی جب کہ تین جی پی اے لینے والے طالبعلم کو چار سال کے لیے وظیفہ دے دیا جاتا تھا‘ یونیورسٹی شروع میں صرف سندھ کے ساڑھے تین سو طالبعلموں کو یہ موقع دیتی تھی لیکن پھر او جی ڈی سی ایل سامنے آئی اور اس نے پورے ملک سے ساڑھے تین سو طالبعلموں کو سپانسر کرنا شروع کر دیا یوں چاروں صوبوں سے پچھہتر پچھہتر طالبعلم آنے لگے‘ اس سال ان میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طالبعلم بھی شامل ہو چکے ہیں۔

زیرو سمیسٹر میں طالبعلموں کو سیٹ اور ٹوفل کی تیاری بھی کرائی جاتی ہے‘ یہ طالب علم چھ ماہ میں نہ صرف آئی بی اے کے اسٹینڈر کے برابر پہنچ جاتے ہیں بلکہ یہ لمز اور نسٹ کے امتحانات بھی پاس کر جاتے ہیں‘ آئی بی اے نے پروگرام کی کامیابی کے بعد سندھ کے دیہاتی علاقوں میں کمیونٹی اسکول اور کالج بنانا شروع کر دیے ہیں‘یونیورسٹی کو عمارتیں سندھ حکومت فراہم کرتی ہے‘ سلیبس آغا خان بورڈ اور کیمبرج کا پڑھایا جاتا ہے اور اساتذہ کی ٹریننگ اور معیار پر نظر آئی بی اے رکھتی ہے۔

زیرو سمیسٹر کے 60 فیصد اخراجات او جی ڈی سی ایل ادا کرتی ہے جب کہ 40 فیصد یونیورسٹی برداشت کرتی ہے‘ ڈاکٹر نثار احمدصدیقی کے اس چھوٹے سے پروگرام نے سندھ بالخصوص دیہی سندھ میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی‘ زیرو سمیسٹر سے ذوالفقار علی چاچڑ جیسے سیکڑوں ہیرو نکل رہے ہیں‘ یہ ہیرو نہ صرف اپنے خاندان کی حالت بدل رہے ہیں بلکہ یہ معاشرے کی ہیت میں بھی بنیادی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔

یہ ایک کامیاب پروگرام ہے‘ میری مستقبل کی حکومتوں سے درخواست ہے آپ لوگ جب اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھیں تو آپ بے شک پاکستان کو زیادہ نیا نہ کریں آپ بس آئی بی اے کے اس چھوٹے سے’’اینی شیٹو‘‘ کو تمام سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں تک پھیلا دیں‘ آپ ملک کی ہر اعلیٰ درس گاہ میں زیروسمیسٹر شروع کرا دیں آپ کو نیا پاکستان نہیں بنانا پڑے گا‘ یہ طالب علم پرانے پاکستان کو خود نیا کردیں گے۔

میں کیونکہ گاؤں کے اسکول سے نکل کر آیا ہوا ہوں لہٰذا میں ذاتی طور پر جانتا ہوں گاؤں‘ قصبوں اور چھوٹے شہروں کی تعلیم کبھی معیاری تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘ گاؤں کے بچوں کو ٹوتھ برش‘ شیمپو‘ پرفیوم اور کنگھی تک کرنی نہیں آتی‘ یہ جوتوں کو بھی اچھی طرح پالش نہیں کر سکتے‘ ہمارے استاد بچوں کی انا کو اس قدر کچل کر رکھ دیتے ہیں کہ یہ بے چارے پوری زندگی کھل کر بول نہیں پاتے‘ ان کی انگریزی صرف لکھنے تک ہوتی ہے‘ یہ بولنے لگتے ہیں تو مزاحیہ تھیٹر بن جاتے ہیں اور رٹا ہم دیہاتیوں کی قابلیت کا واحد سہارا ہوتا ہے۔

ہم رٹے باز ہوتے ہیں اور بیس منٹ میں اندھا دھند بیس صفحے لکھ مارتے ہیں چنانچہ ہم اچھے نمبر لے لیتے ہیں لیکن ہمیں پوری زندگی ٹائی اور تسمے باندھنا نہیں آتا‘ ہم لوگ پوری زندگی بوائے کو بو۔آئے اور گرل کو گررل کہتے رہتے ہیں‘ ہمارا مینگو بھی مینگو نہیں ہوتا مین گو بن جاتا ہے‘ ہم پوری زندگی کین (Can) اور کڈ (Could) کا فرق نہیں سمجھ پاتے چنانچہ میرے جیسے لوگ جب یونیورسٹیوں میں پہنچتے ہیں تو ثقافتی کھائیوں میں جا گرتے ہیں۔

میں خود بری طرح اس صورتحال کا شکار رہا ہوں‘ میں نے رٹے کی مدد سے ایف اے میں بہت اچھے نمبر لے لیے تھے‘ میں نے گورمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا‘ میں وہاں بمشکل ڈیڑھ ماہ نکال سکا‘ میں اس کے بعد ایف سی کالج چلا گیا‘ میں روز سر میں سرسوں کا تیل لگا کر کالج چلا جاتا تھا چنانچہ میں کلاس کے لیے جوکر بن گیا لہٰذا میں چھ ماہ میں ایف سی کالج سے بھی بھاگ گیا ‘ میں نے ملک کے دو بڑے کالجوں میں داخلے کے باوجود پرائیویٹ بی اے کیا‘ یونیورسٹی میں بھی یہی ہوا۔

میں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا‘ مجھے اعتماد اور انگریزی کی کمی نے وہاں سے بھگا دیا‘ میں نے لاہور سے بھاگ کر بہاولپور میں پناہ لے لی‘ وہاں بھی نالائق ثابت ہوا‘ میں کلاس کا اجڈ ترین طالب علم تھا‘ لوگ مجھ سے ’’بچ‘‘ کر رہتے تھے‘ یہ مسائل عملی زندگی میں بھی رہے‘ میں نے پوری زندگی اپنی شخصیت اور گرومنگ سے لڑتے لڑتے گزار دی‘ میں آج بھی لوگوں سے گھبراتا ہوں لہٰذا میری مستقبل کے حکمرانوں سے درخواست ہے آپ بے شک ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے کورسز کو ایک سال آگے کر دیں لیکن آپ زیرو سمیسٹر کو تعلیم کا حصہ ضرور بنائیں۔

آپ زیروسمیسٹر میں قابلیت کے بجائے پسماندگی اور نالائقی کو معیار بنا ئیں‘ آپ طالب علموں کو پہلے چھ ماہ بولنا‘ کپڑے پہننا‘ جوتے پالش کرنا‘ شیو کرنا‘ ٹوتھ برش کرنا‘ پرفیوم لگانا‘ لوگوں کو متوجہ کرنا‘ چھری کانٹے کے ساتھ کھانا کھانا‘ قطار بنانا اور ہاتھ سے کام کرنے کی تربیت دیں‘ آپ انھیں فون پر بات کرنا بھی سکھائیں اور دوسروں کی رائے کا احترام بھی‘ آپ انھیں کم ازکم دو زبانیں بھی سکھائیں اور کسی ایک ملک کا دورہ بھی کرائیں‘ یہ لوگ پوری نسل بدل دیں گے۔

میری دعوت اسلامی‘ سیلانی ٹرسٹ اور تبلیغی جماعت سے بھی درخواست ہے آپ بھی مختلف لیول کے زیرو سمیسٹر پروگرام شروع کریں‘ آپ بھی ذوالفقار علی چاچڑ جیسے طالب علموں کا ہاتھ پکڑ لیں‘ یہ ملک بیس سال میں دو سو سال کا سفر طے کر جائے گا ورنہ ذوالفقارچاچڑ جیسے لاکھوں ہیرو قلفیاں بیچتے بیچتے زیرو ہوتے رہیں گے‘ یہ نئے پاکستان کے پرانے قبرستان میں دفن ہوتے رہیں گے اور ہم نئے پاکستان کے ترانے گاتے رہیں گے۔