Column

کالم

May 28 2018 swat-post-calendar-ramadan-on-the-month-of-ramadan-on-the-return-of-ramadan

ماہ رمضان ، واپڈاعوام پر بجلیاں گرانے لگا ناصرعالم

hello

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع بھر میں عام دنوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کے سبب عوام کو نت نئے مسائل کا سامنا رہتا ہے مگر جب رمضان کامبارک مہینہ آتا ہے تو واپڈا والے لوڈشیڈنگ کی شکل میں جاری ظلم کایہ سلسلہ مزید تیز کردیتے ہیں جو عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے ،اس وقت بھی مینگورہ شہر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے جس نے روزہ داروں کو شدید ذہنی کوفت اور کرب میں مبتلا کردیا ہے ،لوڈشیڈنگ کے باعث اگر ایک طرف کاروبارزندگی بری طرح متاثر ہورہاہے اور کاروبار کا پہیہ رک گیا ہے تو دوسری طرف شہر میں پانی کی قلت نے سراٹھالیا ہے ،لوگوں کو نہ تو پینے کیلئے پانی ملتا ہے اور نہ ہی گھریلو استعمال کیلئے پانی موجود ہے جس کے سبب لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے ،اب روزہ دار دیگر کام کاج چھوڑ کر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آرہے ہیں بہت سے لوگوں نے قدرتی چشموں اور کنوؤں کارخ کردیاہے جبکہ بیشتر لوگ کرایہ پر پک اپ سوزوکی لے کررات کو دریائے سوات جاکروہاں سے برتن بھر کے گھروں کو لے جاتے ہیں ان مراحل سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں مگر پھربھی یہاں کے لوگ ان تکلیف دہ مراحل سے گزرنے پر مجبورہیں،ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے ماہ رمضان میں کم سے کم لوڈشیڈنگ اور افطاری،سحری ونمازکی اوقات میں بالکل لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا تھاجس سے یہاں کے لوگوں نے سکھ کی سانس لی مگر ان کی امید اس وقت دم توڑ گئی جب ماہ رمضان میں دیگر دنوں کے نسبت لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھادیا گیا بلکہ ایک طرح سے واپڈاوالوں نے عوام پر بجلیاں گرانے کا سلسلہ تیزکردیااس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے ماہ رمضان میں لوڈشیڈنگ ختم کرانے اوریا اس کادورانیہ کم کرانے کے وعدے اوردعوئے تو بہت کئے مگر پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی ان وعدوں کو عملی جامہ نہ پہناسکی ،سوات میں ملک کے دیگر حصوں کے نسبت زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے حالانکہ یہاں کے لوگ بڑی پابند کے ساتھ بجلی کے بھاری بھاری جمع کراتے ہیں جبکہ یہاں پر بجلی چوری بھی نہیں ہورہی ہے مگر اس کے باوجود واپڈاوالے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوات کوخصوصی نشانہ بنارہے ہیں جس پر یہاں کے عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر انہیں کس جرم یا گناہ کی سزا دی جارہی ہے۔۔؟ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ واپڈابے لگام گھوڑا بن چکا ہے جس کے سامنے مرکزی اورصوبائی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں واپڈاسے متعلق حکومتی نعرے عوام کوجھوٹی تسلیاں دینے کے سوا کچھ نہیں،ماضی میں سو ات میں بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف بہت سے احتجاجی مظاہرے ،جلسے جلوس ہوچکے ہیں مگر واپڈا کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ،ایک دور ایسابھی آیا تھا کہ سکول کے بچوں نے سڑکوں پر نکل کر لوڈشیڈنگ ختم کرانے کا مطالبہ کیا مگر ان معصوم بچوں کی بھی کوئی شنوائی نہ ہوسکی ،اس کے علاوہ کئی بار آل پارٹیز کانفرنس ،تاجروں کے اجلاس ،سیاسی پارٹیوں کے جلسے اور عوامی سطح پر مظاہرے ہوئے مگر یہ سب کچھ بے کار ثابت ہوگیا اورہر بار عوام کی آوازصدا بہ صحراثابت ہوئی نہ تو ان کے حال پر حکومت اورنہ ہی واپڈا والوں کو ترس آیا ،جب احتجاجوں،جلسے ،جلوس ،آل پارٹیز کانفرنس اورجرگوں کے نتیجے میں بھی واپڈانے ظلم کا سلسلہ بند نہ کیا تو اس کے بعد لوگوں نے واپڈاکوبددعائیں دیناشروع کردیں ،عوام کاکہناہے کہ محکمہ واپڈاکی جانب سے لوڈشیڈنگ کی شکل میں مسلسل ظلم کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے لہٰذہ مرکزی حکومت واپڈا جیسے بے لگام گھوڑے کو جلد ازجلد لگام دے اوراسے لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا پابند بنائے تاکہ لوگوں میں پھیلی ہوئی پریشانی،بے چینی اورتشویش کا خاتمہ ہوسکے ۔