Column

کالم

November 08 2018 swat-post-calendar-nazarajalam-mingora-waiting-for-disadvantaged-workers-attention

معذور ہونے والے مزدورحکومتی توجہ کے منتظر ناصرعالم مینگورہ

hello

یہ کھلی حقیقت ہے کہ ملاکنڈڈویژن کے عوام انتہائی محنت کش اورجفا کش ہیں جو اس وقت اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں تاہم ان محنت کشوں کو وہ سہولیات میسر نہیں جن کی انہیں اشدضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہ لوگ بڑی سنگین صورتحال سے دوچار ہوجاتے ہیں ،یہ محنت کش ایسے حادثات کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جس میں یا تو وہ زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں اوریا جسم کے اہم ترین اعضاء سے محروم ہوکر باقی زندگی معذور ی کی حالت میں گزارنے پر مجبورہوجاتے ہیں اورایسے واقعات اورسانحات زیادہ تر شانگلہ اور سوات کے ان محنت کشوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو ملک کے مختلف علاقوں میں کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں ،آج تک سینکڑوں افراد ایسے دلخراش واقعات کی نذرہوچکے ہیں جو بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کوئلے کی کانوں میں کئی کئی میٹرگہری سرنگوں میں جاکر محنت کرتے ہیں جو یاتو زہریلی گیس بھرجانے اور یا کانوں میں گیس دھماکوں کے سبب لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور یوں گھروں سے زندہ سلامت نکلنے والے ان افراد کی لاشیں گھروں کو پہنچائی جاتی ہیں جن میں بیشتر ضلع شانگلہ کے محنت کشوں کی ہوتی ہیں جبکہ سوات کے محنت کش بھی ایسے واقعات کی زدمیں آکر جاں کی بازی ہار جاتے ہیں،اسی طرح یہ مزدور واقعات اورحادثات میں شدید زخمی بھی ہوجاتے ہیں جو کسی کام کاج کے قابل نہیں رہ جاتے ہیں اوربعدمیں یہ لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہوجاتے ہیں،یہ وہی لوگ ہیں جوکوئلے کی کانوں میں اپنی زندگی کاقیمتی حصہ گزارتے اورجوانیاں قربان کردیتے ہیں مگر معذور ہوجانے کے بعد کوئی بھی ان کی حالت سے آگاہی حاصل کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کرتے ،یہی وجہ ہے کہ اس وقت کوئلے کی کانوں میں حادثات کے نتیجے میں زخمی اورمعذورہونے والے افرادکسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں،ملک کے مختلف علاقوں میں کوئلے کی کانوں میں محنت ومزدوری کرنے والے یہ افراد ریڑھ کی ہڈیاں ٹوٹنے کے سبب وہیل چیئر پر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں جن کے گھروں کے چولہے ہفتوں ہفتوں ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں اوراب تو حکومت اوردیگر ذمہ داروں نے بھی ان سے منہ موڑ لیاہے ،سوات اور شانگلہ کے مختلف علاقوں کے رہائشی افراد جومختلف اوقات میں کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہوئے زخمی اورمعذورہوچکے ہیں، یہ محنت کش کانوں میں گیس بھرجانے کے سبب ہونے والے دھماکوں میں زخمی ہوکراب باقی زندگی معذوری کی حالت میں گزارنے پر مجبورہیں جن میں سے بیشتر افراد کی ریڑھ کی ہڈیاں ناکارہ ہوچکی ہیں۔ اپنے پھیروں پر چلنے پھرنے سے قاصر اپنے خاندانو ں کے واحدیہ کفیل اب وہیل چیئرپر گھومنے پھرنے اوردردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،کسمپرسی،معذوری ،غربت اور مجبوری کی زندگی گزارنے والے ان افراد کے حال پرتاحال کسی کو ترس نہیں آیا،معذورافراداپنی آوازکو حکام اورایوانوں تک پہنچانے کیلئے معصوم بچوں کے ہمراہ دردرکی خاک چھانتے نظر آرہے ہیں جن کا کہناہے کہ وہ ملک کے مختلف مقامات پرموجودکوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرتے تھے اگر چہ یہ کام کافی سخت اورمحنت طلب تھا مگر اس کے باوجود بھی ہم یہ سخت کام انجام دے کر بچوں کیلئے دو وقت کی روزی روٹی کماتے تھے اوراس سخت کام کاسلسلہ ہم نے جاری رکھا مگر بدقسمتی سے کوئلے کی کانوں میں وقتاََ فوقتاََ رونما ہونے والے حادثات کی وجہ سے ہمارے بہت سارے ساتھی جاں بحق اورہم شدید زخمی ہوگئے،انہوں نے کہناہے کہ ان حادثات میں ہم اورہمارے جیسے بہت سے دیگر مزدور ریڑ ھ کی ہڈیاں متاثر ہونے کے سبب اب معذوری کی زندگی گزارنے اور فاقہ کشی پرمجبورہیں،ہم نے زندگی کا زیادہ تر وقت کوئلے کی کانوں میں کام کرتے گزارااورانہی کانوں میں کام کرتے کرتے اپنی جوانیاں قربان کردیں،ہماری ہی محنت کے نتیجے میں متعددخاندانوں کے گھروں کے چولہے جلتے تھے مگر جب ہم معذورہوئے تو نہ تو حکومت نے حال پوچھا اور نہ ہی کوئلے کی کان والوں نے ہماراحال معلوم کرنے کی زحمت گوارہ کی،انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے بیشتر معذورساتھی بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ، ہمیں بے تحاشامسائل اورمشکلات کا سامناہے،بھوک ،افلاس ،غربت اورتنگدستی نے ہماری زندگی مشکل بنادی ہے ،کیا ہم انسان نہیں؟کیا ہم یہاں کے رہائشی نہیں؟کیا حکومت اور دیگر ذمہ داروں کو ہماری مجبوری اوربے بسی کے بارے میں کوئی علم نہیں؟حکومت اوردیگر اعلیٰ وذمہ دار حکا م کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان معذورافراد اوران کے بچوں کے حالت زار پر توجہ دے کر ان کی زندگی کا پہیہ رواں دواں رکھنے کیلئے ان کے ساتھ فوری اور ہرممکن تعاؤن کرتے ہوئے انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کریں تاکہ معاشرے کایہ معذور اورمظلوم افراد اور ان کے بچے سکھ کی سانس لے سکیں۔