Column

کالم

August 06 2018 swat-post-calendar-loadshading-and-public-problems--writing-nasir-ul-malam-mingora-swat

لوڈشیڈنگ اورعوامی پریشانیاں

hello

تحریر ناصرعالم مینگورہ سوات

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی محکمہ واپڈا نے لوگوں پر بجلیاں گرانے کا سلسلہ بھی تیز کردیا ہے ،اس وقت یہاں پر چوبیس گھنٹوں میں عوام کومجموعی طورپر صرف چند گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور وہ بھی وقفے وقفے کے ساتھ بہ الفاظ دیگردن اور رات میں چند لمحوں کیلئے بجلی آتی اور پھر غائب ہوجاتی ہے ،اس صورتحال کی وجہ سے متعددٹیوب ویلوں کا پہیہ رک چکا ہے جس کے نتیجے میں پانی کی شدید قلت نے سرٹھالیا ہے ،اس وقت لوگ دیگر کام کاج چھوڑ کر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آرہے ہیں جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات اور کوفت کا سامنا ہے جبکہ کاروباری لوگ تو ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں،بجلی کی آنکھ مچولی نے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں پڑے مریضوں اور سکولوں میں پڑھائی کیلئے جانے والے طلبہ کو بھی سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے جس کے سبب مریض اور طلبہ بری طرح متاثر ہورہے ہیں ،مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اگرچہ لوڈشیڈنگ صرف سوات کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے مگر ملک کے دیگر حصوں کی نسبت سوات میں لوڈ شیڈنگ کادورانیہ بہت زیادہ ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ سوات کی عوام ہر ماہ بڑی پابندی کے ساتھ مقررہ تاریخ سے بھی قبل بجلی کے بھاری بھاری بل جمع کراتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی اس ضمن میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہاہے جس پربے بس اہل سوات افسوس کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ،یہاں کی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ موسم سرما میں محکمہ گیس والے کم پریشرکو بنیاد بنا کر گھنٹوں گھنٹوں گیس کی سپلائی معطل رکھتے ہیں اور موسم گرما میں محکمہ واپڈاوالے اوورلوڈنگ کابہانہ بناکر گھنٹوں گھنٹوں بجلی کی لوڈشیڈنگ کرتے ہیں جس کے سبب کاروبار مفلوج ،عوام پریشان اوردیگر طبقات حیران ہیں،الیکشن کے زمانے میں ہر سیاسی پارٹی یہاں کے عوام کے ساتھ دیگر وعدوں کی طر ح لوڈشیڈنگ کومکمل طورپر ختم کرنے کا وعدہ بھی کرتی ہے مگر اقتدار ملنے کے بعد دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی بھول جاتے ہیں ،آج تک کسی بھی حکومت نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے کسی قسم کا عملی اقدام نہیں اٹھایا جس کے سبب یہ مسئلہ سنگین ہونے کے بعد گھمبیر ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں حکمرانوں اوردیگر ذمہ داروں کے کئے کی سزا عوام بھگت رہی ہے،مقامی لوگ کہتے ہیں کہ محکمہ گیس اور واپڈا میں اب تک ایسا کوئی ذمہ دار سامنے نہیں آیا جسے پریشان حال لوگوں کے حال پر ترس آئے ،بجلی گیس مہنگی تو ہورہی ہے مگر ضرورت کی یہ دونوں چیزیں موجود ہی نہیں آخریہ کیا ماجرا ہے؟؟؟ماضی میں بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے ہوئے ،مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے وقتی یقین دہانیاں دی گئیں مگر عملی طور پر کسی نے بھی قدم نہیں اٹھایا ،آج بھی لوڈشیڈنگ کیخلاف عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے مگر محکمہ واپڈا کے ذمہ دارں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ وہ خاموش تماشائی کا کرداراداکررہے ہیں اوران کی یہ خاموشی عوام کیلئے سوالیہ نشان ہے جبکہ ساتھ ساتھ پچھلی حکومتوں اور موجودہ نگران حکومت کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے ،عوام کہتے ہیں کہ وہ کن کن مسائل کا رونا روئے ؟مہنگائی ،بے روزگاری ،ناقص ،غیر معیاری اورمضرصحت اشیائے خوردوش کے کاروبار ،غربت ، پینے کیلئے صاف پانی کا نہ ملنااوریا بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ؟؟؟ لوگوں نے ایک بار پھر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیلئے فوری اور موثر اقدامات اٹھاکر عوام کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلائیں تاکہ ان کی پریشانیوں اور مشکلات میں کمی واقع ہوسکے۔