Column

کالم

January 20 2019 swat-post-calendar-government-should-head-the-cheap-and-impartial-medicine-islamic-hakim-abdul-wahsudshasi

حکومت سستے اور بے ضررعلاج طب اسلامی کی سر پرستی کرے،حکیم عبدالواحدشمسی

hello

انٹر ویو : حکیم عثمان علی
حکومت سستے اور بے ضررعلاج طب اسلامی کی سر پرستی کرے،حکیم عبدالواحدشمسی
تعارف
حکیم حاجی عبدالواحدشمسی کسی تعارف کے محتاج نہیں ، قومی طبی کونسل اسلام کے رکن اور سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل )کالج تخت بھائی مردان کے پرنسپل ہیں، حکیم عبدالواحد شمسی 22اکتوبر 1978 کو معروف شخصیت پروفیسر حکیم شمس الحق مرحوم کے ہاں تخت بھائی میں پیدا ہوئے ، گورنمنٹ ہائی سکول تخت بھائی سے میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنے والد مرحوم کے زیر سایہ سرحد یونانی طبیہ( میڈیکل ) کالج تخت بھائی سے قومی طبی کونسل کے زیر نگرانی فاضل طب الجراحت کا چار سالہ کورس مکمل کیااور ساتھ ساتھ ایف ایس سی اعلیٰ نمبروں سے پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کیلئے پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی چونکہ ان کے والد پروفیسر حکیم شمس الحق نے 1978 میں اپنے ہی علاقے میں خیبرپختونخوا کے پہلے طبی درسگاہ کی بنیاد سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل) کے نام سے رکھی تھی اس لیے والد محترم کی خواہش کے مطابق کسی سرکاری ملازمت کے بجائے 2001میں اپنے والد قائم کردہ طبی تعلیمی ادارے میں بطور رجسٹرارکام شروع کردیا ،2012میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات ہوئے اور اپنے کالج کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ، 1978 سے قائم ادارے سے فارغ التحصیل حکماء ملک کے مختلف علاقوں میں سستے اور بے ضرر علاج سے دکھی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں ، حکیم عبدالواحد شمسی صوبہ خیبرپختونخوا کے طلباء کی بے لوث خدمت کرنے پر قومی طبی کونسل کے انتخابات میں پہلی مرتبہ 2007 میں رکن منتخب ہوئے اور 2013 تک صوبے کے حکماء کی خدمت میں پیش پیش رہے ، 2013 کے قومی طبی کونسل کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے کوالیفائڈ حکماء نے ایک بار پھر قومی طبی کونسل کا رکن منتخب کیا جو تاحال قومی طبی کونسل میں صوبے کے حکماء کی نمائندگی کررہے ہیں ، گزشتہ دونوں ان سے سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل) کالج تخت بھائی میں ان سے خصوصی نشست ہوئی جو قارئین روزنامہ چاند کی خدمت میں پیش ہے۔

قومی طبی کونسل اسلام آباد کے رکن اور سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل) کالج تخت بھائی مردان کے پرنسپل حکیم حاجی عبدالواحد شمسی نے کہا ہے کہ طب یونائی ایک فطری اور بے ضرر طریقہ علاج ہے اسکی ابتداء یونان کی زرخیز سرزمین سے ہوئی ہے اس لیے ان کو یونانی طریقہ علاج کہا جارہا ہے ، پہلے پہل سقراط، بقراط، افلاطون اور جالینوس جیسی عظیم ہستیوں نے اس فن کی آبیاری کی ، بابل ، نینوا ، مصر ، یونان ، روم ، ایران اور شام سے ہوتا ہوا یہ فن خطہ عرب پہنچا جہاں اسکی خوب پذیرائی ہوئی ، اسلام کی آمد کے بعد مسلمانوں نے قرآن پاک اور ارشاد نبویؐ سے رہنمائی حاصل کرکے اس فن کو بام عروج پر پہنچا دیا ، چانچہ اسی نسبت طب اسلامی سے موسوم ہوا اور جڑی بوٹیوں پر باقاعدہ تحقیق کا آغاز ہوا ، ہسپتال کھلنے لگے ، بوعلی سینا، ابوبکر زکریا رازی ، ابو قاسم زاہروی ، جابر پن حیان ، علی بن ابن طبری اور دیگر عظیم اطباء نے اپنی ذہانت اور تجربات کو اپنی قوت تحریر سے کتابوں میں محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کو فکر وعمل کی دعوت دی ، اس عظیم علمی سرمائے سے صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ اہل یورپ نے بھی خوب استفادہ حاصل کیا ان کتابوں کے قلمی نسخے آج بھی یورپ کے کتب خانوں میں موجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے وقت یہاں پر آیورویڈک طریقہ علاج رائج تھا تاہم اٹھارویں صدی کے بعد جب مسلمانوں کو زوال آیا تو انگریز حاکموں نے ریلوپیتھی کو فروغ دینے کیلئے 1910 میں طب کو غیر قانونی قرار دیا ، تاہم نامور اطباء نے حکیم محمد اجمل خان کی قیادت میں میدان عمل میں نکل آئے اور ملک گیر تحریک چلاکر انگریزوں کو غلط قانون واپس لینے پر مجبور کردیا اور طب کے فروغ کیلئے دہلی طبیہ کالج کی بنیاد رکھی علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح بھی طب اسلامی کے سرگرم حامی تھے پاکستان میں طب اسلامی کے فروغ کیلئے یونانی اینڈ آیورویدک ایکٹ 1965 کا نفاذ عمل میں آیا جس کے تحت ملک میں طبی تعلیمی ادارے اور ہسپتال قاء کرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ، انہوں نے طب کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئیے مزید کہا کہ طب یونانی اب صرف پاکستان ، ایران ، بھارت، نیپال ، سری لنکا تک محدود نہیں بلکہ کا اس کادائرہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس طریقہ علاج کو تسلیم کیا ہوا ہے ، انہوں نے واضح کہ طب اسلامی فوائد سے بھر پور اور مضر اثرات سے پاک ہے اور یہ علاج پاکستانی عوام کے مزاج کے قریب تر ہے پاکستان میں اسکی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ملک کی نامور یونیورسٹیوں میں طب فیکلٹیز کو قائم کیا گیا ہے جس سے ڈگری اور ماسٹر کورسز کروائے جارہے ہیں ، خیبرپختونخوا میں 1987 سے سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل) کالج قائم ہے جو باقاعدہ قومی طبی کونسل سے رجسٹرڈ ہے اس چار سالہ کورس پر عبور حاصل کرنے کیلئے ہر سال سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ داخلے لیتے ہیں اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہوجاتے ہیں ، ہمارے کالج کا واحد مقصد صوبہ خیبرپختونخوا کے طلبہ کو اعلیٰ طبی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا اور صوبے کے عوام کو بے ضرر اور سستا طریقہ علاج فراہم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے طب اسلامی کی سرپرستی کی تو یہ بے ضرر طریقہ علاج ترقی کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے ، قومی طبی کونسل کو حکومت کی طرف سے خصوصی گرانٹ کی ضرورت ہے ، حکومت قومی طبی کونسل کے منسلک طبی کالجوں سے فارغ التحصیل حکماء کو تحصیلوں کی سطح پر ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں بطور معالج تعینات کریں تاکہ ملک کے تمام شہری ودیہی علاقوں کے عوام سرکاری سطح پر بے ضرر اور سستے علاج سے مستفید ہوسکے ، انہوں نے کہا کہ حکومت حج میڈیکل مشن میں حکماء کو شامل کریں ، انہوں نے واضح کیا کہ طبی اسلامی میں نت نئی بیماروں کا علاج پوشیدہ ہے ، تحقیق اور تخلیق علم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آج طب یونانی کو متبادل طریقہ علاج کہا جارہا ہے حالانکہ اس کا استعمال ہزاروں برس سے جاری ہے جبکہ ریلوپیتھک میڈیسنز آج سے 400برس قبل وجود میں آئیں ہیں ، تو ایسی صورت میں متبال طریقہ علاج کونسا ہوا ؟، انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ انگریزی ادویات کے کیمیائی اثرات سے گھبراکر اب پوری دنیا طب اسلامی کی طرف رجوع کررہی ہے حکومت پاکستان کو بھی طب اسلامی کے فروغ کیلئے ادا کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ طب اسلامی صرف اتائیوں کی وجہ سے بدنام ہورہا ہے اس لیے قومی طبی کونسل کے منسلک طبی کالجوں کے کوالیفائیڈ حکماء کے علاوہ دیگر تمام اتائیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حال ہی میں انگریزی ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اس لیے غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد طب اسلامی کی جانب راغب ہورہے ہیں اب عوام کا رجحان یونانی طریقہ علاج کی جانب بڑھتا جارہا ہے انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پوری ملک کے عوام طب اسلامی کے سستے اور بے ضرر علاج پر ہی اعتماد کر نا شروع کریں گے ،انہوں نے سائنس میں میٹرک پاس نوجوانوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ باعزت روزگار حاصل کرنے اور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کیلئے آج ہی سرحد یونانی طبیہ (میڈیکل) کالج تخت بھائی میں داخلہ لے کر اپنا مستقبل محفوظ بنائیں اور طب اسلامی کی چارسالہ کورس مکمل کرکے مستقبل میں ملک وقوم کی بے لوث خدمت کریں۔