May 23 2018 column-post-calendar کالم

ولی راولی اور پاگل پاگل می شناسد

hello

ہمارے بہت سے پڑھنے والے ہم سے شاکی ہیں کہ ہم ’’بیسٹ سیلر‘‘ موضوعات پر کبھی اپنا ’’بیانیہ‘‘ نہیں دیتے جیسے نواز شریف کا بیانیہ ہوا، چیف جسٹس کا بیانیہ ہوا، ملالہ یوسف زئی کا بیانیہ ہوا۔ پاکستان میں کرکٹ جیسے ’’مقدس‘‘ کھیل کی نشاۃ ثانیہ ہوا اور ایسے بہت سارے گرما گرم ’’بیانئے‘‘ اور یہ اعتراض ان کا بالکل درست ہے لیکن یہ ہمارے اندر کسی ’’ٹیڑھ‘‘ یا مینو فیکچرنگ فالٹ کا نتیجہ ہے جس سے ہم خود بھی حیران و پریشان بلکہ ’’نالاں‘‘ ہیں۔ لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں اور ہم اس فکر میں دبلے ہوتے رہتے ہیں کہ ’’روزوں‘‘ کو تو پھر گیارہ مہینے رہ گئے ہیں۔

 

اﷲ جانے کیا ہوگا مولا جانے کیا ہوگا آگے۔ ہمارے اندر شاید بلکہ بقیناً اس شخص کی بیوی کی آتما گھسی ہوئی ہے جو دریا میں گر کر ڈوب گئی اور لوگ اسے بہاؤ میں ڈھونڈ رہے تھے لیکن اس کے شوہر نے کہا، بہاؤ میں مت ڈھونڈو، وہ ایسی ضدی عورت تھی کہ ڈوبنے کے لیے بھی چڑھاؤ کی طرف نکل گئی ہوگی ۔خود ہمیں بھی اپنی اس ’’کجی‘‘ کا احساس ہے اور حتی المقدور اس کا علاج کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں، پہلی مرتبہ جب ہمیں اپنے اندر اس ٹیڑھ کا احساس ہوا تو اپنے ڈاکٹر امرود عرف مردود سے رجوع کیا۔

وہ ہماری بپتا سن کر پہلے ہنسا پھر کچھ اور زور سے ہنسا اور پھر ہنستا چلا گیا جب وہ ہنستے اور ہم روتے تھک گئے تو بولا، میں جانتا تھا، مجھے معلوم تھا کہ تمہارے ساتھ یہی ہونے والا ہے کیونکہ اگر تمہیں یاد ہو تو بہت پہلے میں نے تم کو مشورہ دیا تھا کہ سامنے میرے بھائی کی دکان سے امرود خرید کر کھاؤ کیونکہ فائیو امرود آف دا ڈے کیپ مردود آوے اور یہ بھی سمجھایا کہ امرود کے اندر جو خاص الخاص قسم کا پروٹین خصوصاً باسی امرود میں پایا جاتا ہے وہ ’’دماغ‘‘ کے اکسیر بلکہ وارننگ دی کہ اگر تم نے میرے بھائی کی دکان کے امرود کھانا شروع نہیںکیے تو سر کے اندر کا مال و متاع جو ویسے بھی کم ہے مک جائے گا اور وہی ہو گیا۔

 

 

ڈاکٹر امرود مردود کی تشخیص پر لعنت بھیجتے ہوئے ہم نے علاج پوچھا تو بولا۔ علاج وہی ہے لیکن ڈوز بڑھانا پڑے گی، اب ایک وقت کے بجائے صبح دوپہر شام امرود کھایا کروگے۔ اس نے تو علاج بتا دیا لیکن ہم خود کو کیسے آمادہ کرتے۔بچپن تو نہیں لیکن جوانی کے آغاز میں ایک مرتبہ ہم نے دکاندار کے جھانسے میں آکر بہت سارے امرود کھائے تھے، بغیر دیکھے ہوئے لیکن آخر میں جب ایک امرود کھولا اور اس کے اندر بھری ہوئی مخلوقات کو دیکھا تو ہمیشہ کے لیے امرودوں سے توبہ تاتب ہوگئے بلکہ اس کا اثر اتنا گہرا پڑا کہ ہمیں دنیا کی ہر چیز پر ’’امرود‘‘ کا گمان ہونے لگا۔ اب ڈاکٹر امرود مردود یہی مشورہ دے رہا تھا تو ہم نے اس کے اس مشورے کو تو نہیں مانا لیکن اس مشورے کو مان لیا جو اس نے نہیں دیا تھا یعنی ڈاکٹر کو بدل لیا۔ یاد آیا کہ ہمارا ایک دوست نے نفسیات کی ڈگری لی ہوئی ہے اور وہ اب شہر میں ایک کلینک چلا رہا ہے۔

ابتدا میں لوگ اسے پاگلوں کا ڈاکٹر کہتے تھے لیکن اب اس کا نام پکا پکا ’’پاگل ڈاکٹر‘‘ رجسٹرڈ ہو گیا ہے۔ ہر پاگل کی طرح ہمیں بھی یقین تھا کہ ہم پاگل نہیں ہیں، بس ایک چھوٹی سی ’’دماغی ٹیڑھ‘‘ یا بقول منا بھائی ،کوئی کیمیکل لوچا ہے لیکن اب مجبوری تھی کیونکہ بات بڑھ کر ہمارے ’’بیانئے‘‘ تک پہنچ گئی تھی،کھلے الفاظ میں تو نہیں لیکن چند پڑھنے والوں نے بین السطور میں بتایا ہے کہ ہمارے اندر یقینی طور پر کوئی دماغی ٹیڑھ یا کیمیکل لوچا ہے کہ نہایت آسان اور بیسٹ سیلر بیانئے ہمارے سامنے ہوتے رہتے ہیں، دنیا بھر کے دانا دانشور اس پر ٹوٹے پڑ رہے ہوتے ہیں۔

کالم لکھے جا رہے ہوتے، دانش پر دانش بگھار ے جا رہے ہوتے ہیں بلکہ کھود کھود کر ان میں نئے نئے بیانئے دریافت کیے جا رہے ہوتے ہیں، اب اس پیاری سی معصوم سی کومل کومل سی اور گڑیاں کھیلنے والی ملالہ یوسف زئی کو دیکھیے، کون ہے جس نے اس میلے میں اپنے آلو چھولے نہ بیچے ہوں اور اس بہتی گنگا میں اشنان نہ کیا ہو۔

اور یہی ہمارا ’’کیمیکل لوچا‘‘ ہے کہ ہم جدھر وہ ہوتے ہیں ادھر صرف دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنا ’’بیانیہ‘‘ نہیں دیتے۔اس لیے کہ ہم اگر ’’بیانیو‘‘ کے اس میلے میں اپنا بیانیہ اتار بھی دیں تو کیا ہو جائے گا، ہونا تو وہی ہے جو ہونا ہے اور ہر حال میں ہونا ہے، چاہے ہمارا بیانیہ ہو یا نہیں بلکہ اگر کسی کا بھی بیانیہ نہ ہو تو پھر بھی ہونا ہے۔خیر ہم اس پاگل ڈاکٹر کے پاس چلے گئے تو پہلے تو اس نے ہم سے صرف ہاتھ بلکہ انگلیوں کے سرے ملائے تھے لیکن ہم نے جب اپنے کیمیکل لوچے کے بارے میں بتایا تو دوڑ کر ہمارے ساتھ ایسے بغلگیر ہو گیا کہ ہمیں پنجابی کا وہ گانا یاد آیا۔ جس ’’ٹھاہ کرکے‘‘ جپھی ڈالنے کا منظر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، پھر اظہار محبت اور یکجہتی کا پورا پورا مظاہرہ کرنے کے بعد اپنی کرسی پر بیٹھا تو مسکرا مسکرا ہمیں اتنے پیار سے دیکھنے لگا جیسے کسی ’’دلہن‘‘ کو دیکھ رہا ہو اور دلہن کو سوائے شرمانے کے اور کوئی آپشن نہیں مل رہا تھا۔

آخر بولا تو یہ کہ اوکے‘‘ ویری گڈ۔ مبارک ہو۔ وضاحت پوچھی تو بولا، یہ کوئی مرض نہیں بلکہ ذہنی ترقی کی پہلی علامت ہے۔ مبارک ہو کہ آپ بہت جلد ذہنی طور پر بالغ یعنی پاگل ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پاگل ہونے کے اس مژدہ جان فزا پر ہمیں اچھلنا تھا لیکن اس نے بتایا کہ لوگوں نے خوامخوا پاگل پن کو بدنام کیا ہوا ہے لیکن پاگل نہیں اصل میں ذہنی بلوغت کا مرتبہ بلند ہے، دیکھتے نہیں کہ ’’پاگل‘‘ ہر غم سے آزاد ہو جاتا ہے، رشتے دار سب اس کی دلجوئی میں لگ جاتے ہیں اور ہمیں ڈاکٹر کی یہ بات پسند بھی آئی اور اس پر یقین بھی کر لیا کیونکہ جس طرح ’’ولی را ولی مے شناسد‘‘ اس کی طرح کسی پاگل کی شناخت کسی پاگل کے سوا کون کرسکتا ہے۔