Column

کالم

June 29 2018 swat-post-calendar-aafias-sister-fauzia-came-out-of-the-roaming-supreme-court

عافیہ کی بہن فوزیہ روتی ہوئی سپریم کورٹ سے باہر نکل آئی

hello

مشرقی اُفق
میر افسر امان
عافیہ کی بہن فوزیہ روتی ہوئی سپریم کورٹ سے باہر نکل آئی)
سپریم کورٹ نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی صاحبہ کی درخواست ،جو اُس نے اپنی بہن ،۸۶ سالہ امریکی قیدی ڈاکٹر عافیہ صدیقی صاحبہ کی امریکا کی جیل سے پاکستان کی جیل میں منتقل ہونے کے لیے سپریم کورٹ میں دی تھی خارج کر دی ۔اور ڈاکٹر فوزیہ فیصلہ سننے کے بعد روتی ہوئی سپریم کورٹ سے باہر نکل آئی۔کیا کوئی اس روتی ہوئی دکھیا خاتون کے دکھوں کو سمجھ سکتا ہے؟۔ آئیں آج ہم آپ کے ساتھ اس کے دکھوں کو شیئر کریں۔ڈاکٹر عافیہ کا خاندان پڑھا لکھا ایک مذہبی گھرانا ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں کا اسلام اور مسلمانوں سے لگاؤ کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ تحریک خلافت کے دوران اس میں شرکت کے ساتھ ساتھ اپنی ایک جائداد خلافت فنڈ میں دی تھی۔ خود ڈاکٹر عافیہ حافظ قرآن ہیں۔ ان کے بچوں نے بھی قرآن شریف حفظ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو قرآن اور حدیث کی اسلامی تعلیمات پر ملکہ حاصل ہے۔مختلف مذاہب کے تقابلی جائزے کے بعد عیسائیت اور یہودیت پر ریسرچ کی ۔اس کے استاد پروفیسر نوم چومسکی نے قابلیت کے اعتراف میں کہا تھا ’’عافیہ جس جگہ جائیگی وہاں سسٹم کو تبدیل کر دے گی‘‘ڈاکٹر عافیہ کہتی تھیں کہ امریکہ نے مجھے دنیا کی تعلیم دی ہے میں امریکہ عوام کو دین کی تعلیم دونگی۔ ڈاکٹر عافیہ نے دین کی تبلیغ کے لیے امریکہ میں’’ اسٹیٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ اینڈ ٹیچنگ‘‘ قائم کیا تھا جس میں اسلام پر لیکچرز کا اہتمام ہوتا تھا جسے لاتعداد لوگ سنتے تھے ۔ہزاروں کی تعداد میں قرآن تقسیم کیے ۔ خاص کر جیلوں میں موجود قیدیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ امریکی حکومت نے متعدد بار شہریت دینے کی پیش کش کی مگر ڈاکٹر عافیہ نے انکار کر دیا۔ شاید یہی وجہ ایف بی آئی کو کھٹکنے لگی۔ دوسرا دین کی تبلیغ کی وجہ سے اس مظلوم خاتون کو ۸۶ سال کی قید سنائی گئی وہ اسلام کی تعلیمات کو امریکی عوام کے سامنے پیش کرتی رہی۔ امریکی حکومت نے ان کو امریکی شہریت کی خود پیش کش کی تھی مگر ڈاکٹر عافیہ نے پاکستانی شہرت پر فخر کیا اور امریکی شہرت قبول نہیں کی۔نائن الیون کے بعد امریکا میں حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عافیہ کی اسلام سے متعلق سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھیں اور ڈاکٹر عافیہ کے متعلق پاکستانیوں سے زیادہ معلومات بھی رکھتی تھیں۔ امریکی حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کو چیک لسٹ پر رکھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے امریکا سے کئی مضامین میں پی ایچ ڈی کیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقہ کا یہ قصور ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اورپاکستانی شہری ہے۔وہ امریکا میں اسلام اور اسکی تعلیمات کا درس دیتی اور امریکی عوام کو اسلام کی طرف راغب کرتی رہی۔ہم نے خود اُن کی وڈیو دیکھی ہیں۔اگر کسی صاحب کو اس کے دروس اور اسلام کی خدمات کے معلق مواد چاہیے تو ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ غدار ملت ڈکٹیٹر مشرف نے مسلم دشمنی اور ڈالر کی لالچ میں دوسرے ۶۰۰ سو مسلمانوں کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کیا۔ مکافات عمل دیکھیں آج ڈکٹیٹر مشرف پاکستان اور دنیا میں ذلیل ہو گیا ہے۔ملک میں قتل اور آئین توڑنے پر غداری کے مقدمات چل رہے ہیں۔پاکستان کی عدالتوں سے مفرور ہے۔اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی فارغ ہو گیا ہے۔ ڈکٹیٹر مشرف نے اپنی کتاب ’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘ میں ذکر بھی کیا ہے۔ پھر کچھ پاکستانی پریس جو امریکی فنڈڈ ہے، نے ڈاکٹر عافیہ کے خلاف پروپیگنڈہ کا طوفان اُٹھایا۔ جس سے غیر دانستہ طور پر پاکستانی عوام، عام میڈیا ، دانشوراور کالم نگار ڈاکٹر عافیہ کو حیاتی اور ایٹمی سائنسدان لکھتے رہے۔ اور لکھا کہ وہ امریکا کے خلاف دہشت گردی اور حیاتی اسلح تیار کرنے میں مصروف تھی۔ پاکستانی میڈیااسے امریکی شہری بھی لکھتے رہا۔ اس پرپیگنڈہ کو زائل کرنے اور عوام کو حقیقت بتانے کے لیے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے اپنے ایک انٹر ویو میں حقیقت بتائی۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستانی میڈیا ان کونیورولجسٹ ،نیوکلےئر سائنسٹ اور امریکی شہری لکھتا رہا ہے مگر ان کی بہن فوزیہ صدیقی نے اپنے ایک انٹرویو جو نوائے وقت سنڈے میگزین مورخہ ۱ ۱؍کتوبر ۲۰۱۰ ؁ ء میں شائع ہوا تھا کہا ’’ کہ حکومت کے نمائندے اور بعض نامور صحافی غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ نیوکلےئر سائنسٹ اور امریکی شہری ہے۔بلکہ وہ leaning through ammitaton میں پی ایچ ڈی ہے‘‘ ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی مظلومہ امت مسلمہ کو امریکا کی عدالت کے یہودی جج نے ناکردہ گناہ کے عوض ۸۶ سال کی قید کی سزا سنائی۔ اس پر امریکا ایک دانشور جو عدالتی کاروائی سننے کے لیے آیا ہوا تھا۔تاریخی بیان دیا تھا۔’’ اس نے کہا تھا کہ سزا ڈکٹر عافیہ کو نہیں دی گئی ۔کیونکہ نہ اس پر دہشت گردی کا مقدمہ نہ تھا نہ وہ دہشت گردی میں شریک تھی ۔سزا ڈاکٹر عافیہ کو نہیں دی گئی بلکہ سزاسلام کو دی گئی ہے‘‘۔ اگر امریکا عدالتی کاروائی اور فیصلہ کا غیر جانبدرانہ تجزیہ کیا تو استغاثہ نے عمر قید کا کہا تھا اور عدالت کی مقرر کردہ وکیل صفائی نے ۱۲؍ سال کی سفارش کی تھی۔ مگر امریکی یہودی جج رچرڈ برمین نے امریکی میرین پر فائرنگ کے سلسلے میں ۷ ؍الزامات ثابت ہو نے کا کہا۔جج رچرڈ مین نے مذید کہا کہ عافیہ نے دوران سماعت جھوٹ بولا ،۸۶ ؍کی سزا مناسب ہے۔ جبکہ اس زخمی عورت کو انسانی حقوق کے چیمپےئن امریکی حکومت نے جیل میں عادی مجرم مردوں کے ساتھ قید رکھا۔جس سے وہ ذہنی توازن بھی قائم نہ رکھ سکی۔اس کمزور عورت نے امریکی ہٹے کٹے فوجیوں سے قید کے دوران بلگرام جیل افغانستان میں ایم فور بھاری رائفل اٹھا کر ان بہاد روں پر فائر کیا۔ جس سے وہ بچ گئے مگر یہ کمزور عورت خود زخمی ہو گئی۔ مزید عدالت ایم فور رائفل پر سے فنگر پرنٹ بھی ثابت نہیں کر سکی۔ عافیہ کے وکلاء نے ایک وڈیو کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کمرے میں گولیوں کے سوراخ ۱۸؍ جولائی ۲۰۰۸ کے اس واقعہ سے پہلے کے بنے ہوئے تھے۔ استغاثہ اس کا جواب نہ دے سکاکہ امریکی فوجی کی رائفل زمین پر کیوں پڑی تھی؟ جس کمرے میں یہ واقعہ پیش آیا اس کمرے میں گولیوں کے نشان ۱۸؍ جولائی ۲۰۰۸ سے پہلے کے تھے۔ اور نام نہاد ۷؍ الزام لگا کرعافیہ کو صلیبی امریکی عدالت نے سزا سنا دی۔سزا سناتے وقت terrorism enhancement کے اصول کا اطلاق کیا گیا ۔ واضح رہے کہ امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کے خلاف ہیں۔ڈاکڑعافیہ نے ہر موقع پر دہشت گردی میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے غلط شوائد پیش کیے گیے ۔ بحر حال ڈاکٹر عافیہ نے کہا اپیل نہیں کروں گی ۔میری اپیل اللہ سے ہے۔میرے حامی جج کو معاف کر دیں۔ میرے حوالے سے خون ریزی نہ کریں ۔پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ کا ۲۰۰۳ سے ۲۰۰۸ تک افغانستان میں امریکی حراست میں ہونے کا مؤقف عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کے اس کا ریکارڈ نہیں !واہ رے دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملک کے جج صاحب آپ کی حکومت کے پاس تو زمین پر چلنے والی چیونٹیوں کا بھی ریکارڈ ہے ۔صرف اس مسلمان مظلوم قیدی کی قید کا ریکارڈ آپ کے پاس نہیں۔آپ دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ کیا انصاف پسند دنیا آپ کی یہ دلیل مان لے گی؟ نہیں بل لکل نہیں! عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے غلط شوائد پیش کیے گیے ۔عدالتی فیصلہ امریکی تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ انٹرنیشنل نیٹ ورک کی رہنما ٹینا فوشر کا نیویارک میں بیان۔عدالت میں شیم شیم کے نعرے لگانے والی انسانی حقوق کی علم بردار تنظیم انٹرنیشنل ایکشن سینٹر کی بانی سارہ فلینڈر نے کہا کہ اس نے ضمیر کی آواز پر ظالمانہ سزا کے خلاف احتجاج کیا تھا اس مقدمے میں ۹ ؍سرکاری ملازم بحیثیت گواہ پیش ہوئے۔ کیا اس دنیا کے اندر یہ واقعہ نہیں ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ ۶۸؍ سال کی سزاامریکا میں کاٹ رہی ہے۔باقی آئیندہ