Column

کالم

May 23 2018 swat-post-calendar-a-letter-from-the-country-and-its-answer

بیرونِ ملک سے آیا ایک خط اور اس کا جواب

hello

اگر ملک کے پا نچوں بڑے اداروں، مقننہ ،عدلیہ،انتظامیہ،فوج اور میڈیا کو روحِ قائد ؒکے سامنے اپنی اپنی کا رکردگی پیش کر نی پڑے توسب کو ندامت کا سامنا کر نا ہو گا،سب کوڈانٹ پڑیگی۔کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ملک کے کسی حصے میں کوئی فوجی افسر سیاست میں ملوث ہو تا ہے تو 1971کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں،تاریخ کی بد ترین شکست یاد آجاتی ہے، دل کے افق پر تشویشناک خدشات کے سیاہ بادل منڈلانے لگتے ہیں اور دل سے دعائیں نکلتی ہیں یااللہ میرے وطن کی خیرہو اسے مز ید کسی صدمے سے بچانا۔

 

پچھلے کا لم کے بعد حسبِ معمول بہت سے خطوط اور ای میلز موصول ہوئیں،تحریر چونکہ وطنِ عزیز اور قومی اداروں کے مفاد اور بہتری کے لیے لکھی گئی تھی اس لیے زیادہ تر قارئین نے بھر پور اتفاق کیا مگر دو خطوط تنقیدی بھی تھے ۔ایک ای میل راولپنڈی سے ایک ریٹائرڈ کرنل صاحب کی تھی اور دوسری کینیڈاسے ڈاکٹر سجاد کریم کی ۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ۔

محترم چیمہ صاحب!

’’میں آپ کا پرانا فین ہوں،آپ نے اپنی سروس میں جوکارنامے انجام دیے ہیں ان سے واقف بھی ہوں اورآپکے بے داغ کردار کا معتر ف بھی ہوں۔اسی لیے میں آپکا ہر کالم بڑے شوق سے پڑھتاہوں ۔لیکن پچھلے دوکالموں میں آپ نے حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ لکھ کر نواز شریف کے موقف کو سپورٹ کر نے کی کوشش کی ہے، اس وقت حمود الرحّمن رپورٹ لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

نواز شریف نے آپ جیسے با صلاحیت شخص کو نہ پنجاب کا آئی جی لگایا اورنہ ہی کو ئی ڈھنگ کا عہدہ دیاپھر اُس نے آپ پر کونسا احسان کیاہے کہ ُاسے خوش کرنے کے لیے آ پ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کررہے ہیں۔اگر فوج کسی کرپٹ سیاست دان کو فارغ کرنے میں کو ئی کردار اداکرتی ہے تو اس میں کونسی قابلِ اعتراض بات ہے،جوکچھ نواز شریف کے ساتھ ہورہا ہے باقی کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔آپ جیسے ایماندار شخص کو نواز شریف کی نہیں اسے ہٹانے والے اداروں کی سپورٹ کرنی چاہیے … والّسلام ڈاکٹر سّجاد کریم ،ٹورنٹو،کینیڈا

محترم ڈاکٹر سّجاد کریم صاحب ۔

گزارش ہے کہ پاکستان میری محبتّ ہے، اس لیے اس کا دفاع کرنے والی فوج کی دل جان سے عزت کرتاہوں۔مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرے ملک کی فوج غیر متنازعہ رہے تاکہ اس سے صرف ایک گروہ یا پارٹی نہیں،پو ری قوم محبت کرے ۔آپ نے لکھاہے کہ میں نے میاں نواز شریف کو خوش کرنے کے لیے کالم لکھاہے خدا گواہ ہے کہ اِس ناچیز کی اوّل و آخروابستگی اور وفاداری کسی فرد سے نہیں، صرف اور صرف اپنے پاکستان سے ہے،اُسی کی بہتری پیشِ نظر ہے اور اُسی کا مفادعزیز ہے کہیں کو ئی چیز ملک کے لیے نقصان دہ محسوس ہوتی ہے تومضطرب ہوجاتا ہوں اور پھر وہی بیقراری، اور تشویش صفحہء قرطاس پر منتقل ہوجاتی ہے۔ آپ نے میاں صاحب کے احسانات کا پوچھاہے تو وہ بھی سن لیں ۔

2008 میںمسلم لیگ (ن)کو پنجاب میںحکومت ملی تووزیر اعلیٰ پنجاب نے جرائم کی انتہائی تشویشناک صورتِ حال کے پیش نظر مجھے گوجرانوالہ تعینات کر دیا۔ خطر ناک ترین مجرموں کے خلاف کئی مہینوں کی جنگ کے بعدپورے ریجن کو پر امن بَنا دیاگیا۔2010 میں ایک ضمنی الیکشن میں حکومتی پارٹی کی دھاندلی کی کوششوں کو سختی سے روک دیا تو اپوزیشن کا امید وارجیت گیااور میری وہاں سے ٹرانسفر کر دی گئی۔

حکومت ناراض ہوگئی ۔اور یہ ناراضگی اُس وقت تک جاری رہی جب شیخوپورہ وزیرستان بن گیا اور حکومتی رٹ ختم ہو گئی تو ناچیز کوبلایاگیااور شیخوپورہ تعینات کر دیاگیا۔اللہ کے فضل وکرم سے چند ہفتوں میں ہی شیخوپورہ میں امن بحا ل ہوگیا۔ بڑے اور چھوٹے میاںصاحب دونوں بھائی درجنوں مرتبہ ،میر ی عدم موجودگی میں بھی کہتے رہے کہ’’ پو لیس میں اس کے پا ئے کا کوئی افسر نہیں اور پنجاب پولیس کواس سے بہتر کوئی کمانڈنہیں کر سکتا‘ ‘ کچھ عرصے بعد نئے الیکشن ہوئے، مسلم لیگ ن جیت گئی اور میا ں نواز شریف وزیر اعظم بن گئے، پوری پنجاب پولیس اورملک بھرکے پی ایس پی افسران کو یقین تھا کہ پنجاب کا آئی جی اس ناچیز کو ہی لگایا جا ئیگا۔ مگر وقت آیا تو ذاتی وفاداری اور تابعداری کو میرٹ پر ترجیح دے دی گئی۔

اُسکے بعد کئی با کرداراور ملک کا دردرکھنے والے سنیئر صحافیوں نے پیمرا کو موثر بنانے کے لیے وزیراعظم کوناچیز کا نام تجویز کیا یہ تجویز اس لیے قبول نہ ہوئی کہ’’ وہ ہدایات قبول نہیں کریگا‘‘۔ملک کی کئی معتبر شخصیات نے نیب کی ساکھ بحال کر نے کے لیے ناچیز کا نا م نیب کی چیئر مینی کے لیے تجویزکیا، پھر الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے نام تجویز ہوامگر راقم کسی بھی ایسے عہدے کے لیے قابلِ قبول نہ ٹھہرا جس سے حکمرانو ں کے مفادات وابسطہ ہوں ۔

ابھی چند روز پہلے ایک قریبی دوست (ریٹائرڈ فیڈرل سیکرٹر ی )ایک کھانے پر مجھے کہہ رہے تھے کہ ’’ہمیں اس بات پر دکھ بھی ہو تا ہے اور حیرانی بھی کہ آپ نے تو اُنکے لیبل کی وجہ سے بہتSufferکیاہے ،مگرمیاں صاحب اقتدار میں آکر آپ کو جائز حق بھی نہ دے سکے ۔ ہمیں افسوس ہے کہ نواز شریف صاحب نے آپکو کبھی آپکےCaliberکے مطابق ذمّے داری نہیں دی‘‘۔ میں نے کہا ’’آپ کے جذبات کا شکریہ،مگر دنیا میں کسی انسان نے کیا کردار اداکر نا ہے اس کا فیصلہ وزیراعظم کے ہاتھ میں نہیں یہ تو کائناتوں کا حاکمِ اعلیٰ خود فیصلہ کر تا ہے،ویسے بھی میں نوجوانو ںکو ہنر مند بنانے کا جو کا م کر رہاہوں، یہ ملک کے لیے بے حد اہم ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھ ناچیز کو جتنی عزت دی ہے اُس پر ہر لمحہ سجدہ شکر میں گزار دوں تو بھی کم ہے۔ ‘‘

لہٰذا یہ تو واضح ہے کہ کسی بھی اہم عہدے کے لیے ہم جیسا اپنی رائے رکھنے والا اورقانو ن کی حکمرانی قائم کر نے والا شخص کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا،ہمارے بڑے بھا ئی صاحب جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا،وہ قومی اسمبلی کے واحد ممبر تھے جو ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج تھے ۔بیر سٹر بھی ہیں اور ان کی دیا نت و امانت سے بھی سب واقف ہیں ،لاء منسٹری کا ہر اہلکا ر سمجھتا تھا کہ وزیرِقانون انھیں ہی بنایا جائے گا وہ عدلیہ اور حکو مت کے درمیان پل کا کردار اداکر سکتے تھے مگر وزارت کیا، انھیں کسی کمیٹی کا چیئر مین بھی نہیںبنایا گیا۔کیونکہ وزیر اعظم کاقرب حاصل کر نے کے لیے جن اوصاف کی ضرورت تھی،جج صاحب ان سے محروم تھے۔

مگر یہ ذاتی گلے شکوے کرنے کا وقت نہیں اپنے گھر، اپنے گلشن اور مادرِ وطن کے تحفظ کا مسئلہ ہے جس پر ہزاروں عہدے قربان کسی لا لچ یا مفاد کی وجہ سے نہیں ملکی مفاد کے پیشِ نظر میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ فوج کا سیاست میں الجھنا ملک کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔نواز شریف کی گورننس پر کئی بار تنقید کر چکا ہوں مگر نواز شریف کے خلا ف جو کچھ ہو رہا ہے وہ انصاف نہیں زیادتی اور بے انصافی ہے اور اس ملک کا ہر باشعور شخص(جو ذاتی بُغض یا ہوس میں مبتلا نہیں ہے ) بجا طور پرمحسوس کر تا ہے کہ نوازشریف توستّر بار پیش ہو چکے ،ہرروز نئے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں جب کہ آصف زرداری،شیخ رشید ، علیم خان نذر گوندل وغیرہ مَو جیں کررہے ہیں،یہ کیسا احتساب ہے؟یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔

اسلام آباد کا ہر باخبر شخص یہ سمجھتا ہے کہ سینیٹ کی طرح وزارتِ عظمیٰ کے لیے بھی کسی بے نام سے تابعدار قسم کے شخص کی تلا ش ہے، سیاسی قیا دت قد آور ہو تو ملک کا امیج بہت مضبوط ہو تاہے،سیا سی قیادت کمزور اور بَونی ہو تو ملک کا پر وفائل اور معیشت دونوں نیچے گر جاتے ہیں ،کیا مضبوط سیاسی قیادت کو ہٹانا ملک کے مفاد میں ہے؟ترکی کا نا م مضبوط سیا سی لیڈر کی وجہ سے دُنیا بھر میں سربلند ہے۔

میاں نواز شریف کے طرزِحکمرانی اور بھا رت کے ساتھ دوستی کے لیے ان کی ضرورت سے زیادہ گرمجوشی کو ہم تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔(بھارت کے معاملے میں عمران خان کا نرم گوشہ بھی مّحلِ نظرہے ) مگر ملک کے سیاسی معاملا ت میں عسکر ی اداروں کی مداخلت ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جسکا ہر وزیر اعظم کو سامنا کر ناپڑتا ہے اور آئیندہ بھی پڑتارہے گا۔ ہر با خبر اور غیر جانبدار صحافی علی الاعلان بتارہا ہے کہ ممبران پر مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ایک خاص پارٹی میں بندے شامل کرائے جا رہے ہیں۔ اَیسا کِس لیے کیا جا رہا ہے ؟ ایسا کر کے ادارے خود متنازعہ ہو جائیں اور اپنی ساکھ خراب کر لیں، کیایہ ملک اور قومی اداروںکے لیے خطر ناک نہیں ہے ؟

ممبئی حملے پر جنرل مشرف کے علاوہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جنرل محمود درّانی نے سب سے پہلے بھارتی موقف کی تائید کر تے ہوئے کہا تھا ’’یہ اعتراف تکلیف دہ ہے مگر میںا عتراف کر تا ہو ں کہ ممبئی حملو ں  میں ملوث افراد کا تعلق پا کستان سے ہے ‘‘وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا تھا‘‘ ممبئی حملوں میں ملوث افراد نے پاکستان میں تربیّت حاصل کی تھی‘‘ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے ایک کالم میں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سارا الزام لشکر طیبّہ پر دھر دیا تھا ۔مذکورہ بالا چاروں افراد نے ریاستی موقف سے انحراف کرکے بھارتی موقف کی تائید کی اور دشمن ملک کو فائدہ پہنچایا۔ لیکن کسی نے ان کی باز پرس کی اور نہ ہی انھیں غدّار قرار دیا۔اس لیے Truth and Reconciliation Commission ضروربننا چائیے۔ تحریکِ پاکستان کے عظیم لیڈر جناب قاضی عیسیٰ کے صاحبزادے جسٹس فائز عیسیٰ (جج سپریم کورٹ) اس کے سر براہ ہوں اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اعجاز چوہدری اور سابق آرمی چیف جنرل وحید کا کڑ اس کے ممبر ہوں ۔

بلا شبہ پا ک فوج ملک کے تحفظ کے لیے جانیں دے رہی ہے اس لیے وطنِ عزیز کے تحفظ کی اُس سے زیا دہ کسے فکر ہو سکتی ہے ۔ ملک کو در پیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر راقم پھر دست بستہ اپیل کر تاہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت سر جوڑکر بیٹھے۔ اپنے اپنے تحفظات اور خدشات سامنے لائیں،فوج غیر سیاسی اور غیر جابندار ہنے کا یقین دلائے، سیاستدان گورننس بہتر کریں ،اور احتسابی نظام کو شفاف اور موثر بنائیں ۔ کیاگلشن کے تحفظ کے لیے ہم اپنی اناؤں کی قربانی نہیں دے سکتے؟